شام: سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت، بھائی ماہر الاسد بھی مجرم قرار

دمشق (رائٹرز، الجزیرہ، العربیہ) شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو تقریباً 14 سالہ جنگ کے دوران قتل، تشدد، من مانی گرفتاریوں اور انسانیت کیخلاف جرائم کے الزامات میں غیر حاضری میں سزائے موت سنا دی، جو بشار الاسد کے خلاف شام میں پہلی عدالتی سزا ہے۔

عدالت نے بشار الاسد کے بھائی اور سابق فورتھ آرمڈ ڈویژن کے سربراہ ماہر الاسد کو بھی انہی نوعیت کے جرائم میں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی، جبکہ سابق سیکیورٹی عہدیدار عاطف نجیب کو بھی سزائے موت دی گئی۔ عاطف نجیب واحد ملزم تھے جن کیخلاف مقدمے کی کارروائی عدالت میں ان کی موجودگی میں ہوئی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق بشار الاسد کو ایک سے زائد افراد اور بچوں کے منصوبہ بندی کے تحت اور دانستہ قتل، تشدد، من مانی گرفتاری اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں سزا سنائی گئی۔ مقدمے کی کارروائی تقریباً چار ماہ جاری رہی اور نئی شامی حکومت نے اسے سابق حکومت کے جرائم کے احتساب اور عبوری انصاف کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کی خبر پھیلتے ہی دمشق میں عدالت کے باہر شہری جمع ہوگئے، جہاں لوگوں نے شامی پرچم لہراتے ہوئے نعرے لگائے اور فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا۔ جنوبی شہر درعا میں بھی شہریوں نے جنگ کے دوران گرفتار یا ہلاک ہونے والے افراد کی تصاویر اٹھا کر جشن منایا، جن میں 13 سالہ حمزہ الخطیب کی تصویر بھی شامل تھی۔

رائٹرز کے مطابق بشار الاسد دسمبر 2024ء میں باغیوں کی برق رفتار کارروائی کے نتیجے میں اقتدار سے محروم ہونے کے بعد روس فرار ہوگئے تھے، جہاں انہیں اور ان کے خاندان کو انسانی بنیادوں پر پناہ دی گئی۔ اس صورت حال کے باعث سزائے موت پر عمل درآمد فوری طور پر ممکن نہیں، جبکہ بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بشار الاسد کی شام حوالگی کی کوششیں مزید مشکل ہوسکتی ہیں۔

شامی قانونی ماہر انور البنی نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے “عبوری انصاف کے بجائے نمائشی انصاف” قرار دیا اور کہا کہ جس ملک میں سزائے موت موجود ہو، وہاں سے کسی ملزم کی حوالگی حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

بشار الاسد 2000ء میں اپنے والد حافظ الاسد کے انتقال کے بعد شام کے صدر بنے تھے اور دسمبر 2024ء میں ان کی حکومت کے خاتمے تک تقریباً 24 سال اقتدار میں رہے۔ 2011ء میں حکومت مخالف مظاہروں سے شروع ہونے والی جنگ نے شام کو طویل خانہ جنگی میں دھکیل دیا، جس میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔