سانحہ سوات کا تحفظ اور تقاضے؟

یوں تو پاکستان کے کسی نہ کسی علاقے میں دہشت گردوں کی انسانیت اور خون آشام کارروائیوں کے نتیجے میں دِل خون کے آنسو روتا ہے، مگر اب یوں لگتا ہے کہ ملک کے انتہائی دلفریب،گنگناتی انتہاؤں، مسحور کن جھرنوں اور جنت نظیر وادیوں کے بنظرِ مسکن پاکستان کا سیاحتی مقام سوات بھی درندہ صفت دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ سوات کوئی سری مقام کے عین اوپر واقع نہیں ہے۔ سوات ایک ہنستے بستے معاشرے کا اَمن و امان کا گہوارہ ہے جو ہر موسم میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کا مسکن بنا رہتا ہے۔ایسے ملکی مقام کو یار لوگ سوئٹزر لینڈ کے سیاحتی مقامات سے بڑھ کر ترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے عالمی سیاحتوں کے اسی پسندیدہ مقام کو درندگی کا نشانہ بنانے والوں کی اسکے مرکزی اور گنجان آباد علاقے میں ایک چونکا دینے والی بات سے کم نہیں۔ دہشت گرد وہاں تک کیسے پہنچے، ان کا جتنا بھی سفر تھا انہوں نے یہ کیسے طے کیاکہ اخباری رپورٹ کے مطابق اگر دہشت گرد خود کش بمبار تھا تو بھی نقل و حرکت میں احتیاطی عمل تو ہوتا ہو گا۔ سوات ایسے انتہائی پُررونق سیاحتی مقام پولیس سٹیشن تک وہ جس طرح اپنے ٹارگٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوا،باتیں یقینا پاکستان کے اربابِ بحر و فن کیلئے ایک لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

اس انسانیت دشمن نے خود کش دھماکہ کر کے پاکستان پولیس کے15 اہلکاروں کو شہید اور دس سے زائد کو شدید زخمی کر دیا اور اسی دن سے تین دن پہلے سوات ہی میں دہشت گردوں نے حملہ کر کے ولیج ڈیفنس کمیٹی کے چار ارکان اور ایک پولیس اہلکار کو جامِ شہادت پلایا تھا۔ اس طرح صرف سوات ہی میں کل20پاکستانیوں کو شہید اور دس سے زائد زخمی کر کے رکھ دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سوات ہی میں دہشت گردی کے دِل ہلا دینے والے اوپر نیچے کے ان دونوں واقعات نے ملک بھر میں ایک تھرتھلی مچا دی ہے کہ آخر دہشت گرد اس طرح دھڑلے سے جہاں چاہتے ہیں وہاں بلا روک ٹوک پہنچ کر بغیر لڑے معصوم پاکستانیوں کو خاک و خون میں تڑپا کر رکھ دیتے ہیں۔ ان کی ناکہ بندی کے موثر اور دیرپا اقدامات اٹھانا انتہائی ضروری ہے ایسے اقدامات کے بغیر ان درندوں کا قلع قمع قرین قیاس نہیں، ایسے دہشت گردوں کو ان کی کمین گاہوں سے برآمد ہوتے ہی کچلنا ہو گا۔ تبھی پاکستان کے پُرامن معاشرے کو اَمن و سکون اور در آنے والے شرپسند دہشت گردوں سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے یہ دردناک حقیقت اب زبان زدِ عام ہو رہی ہے کہ جس قدر افسروں،جوانوں، پولیس اہلکاروں اور عوام کی شہادتیں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہو چکی ہیں اتنی تو دیگر ممالک کے ساتھ جنگوں میں بھی نہیں ہوئی تھیں۔

عوام کے جان و مال کے تحفظ اور اپنے زرِمبادلہ کمانے والے سوات ایسے سیاحتی مقامات کو بھی دہشت گردوں کی دست بُرد سے محفوظ رکھنے کیلئے اِن جلی اور خفی راستوں کی ناکہ بندی کی سٹرٹیجی پر نظرثانی کر کے انہیں موثر بنانا پڑے گا۔دہشت کے ہاتھوں کتنی بٹیوں کے سہاگ اجڑے،کتنے ہزار بچے باپ کی شفقت سے محروم ہوکر یتیم ہو گئے،لاتعداد بہنوں کے بھائی جام شہادت نوش کر گئے اور لاتعداد ماؤں کی اپنے جوان بیٹوں کو سہرا سجانے کی حسرتیں دِل میں رہ گئیں۔ایسے دلخراش سانحات کے تدارک کیلئے مصلحتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے انانیت کو نظر انداز کر کے طرزِ مملکت پر نظرثانی بھی کرنا پڑے تو ملک کو دہشت گردوں کی خون آشام اور انسانیت سوز کارروائیوں سے نجات دلانے کیلئے یہ سودا مہنگا نہیں ہو گا۔اس راہ کو اختیار کرنے میں کسی بھی مصلحت کو آڑے نہیں آنے دینا چاہئے یہی قوم کی پکار اور وقت کا تقاضا ہے اور وقت دانش مندی کا متقاضی ہے۔