نظام اور انسانی درندے!

کالم کا عنوان انسانی درندے پڑھ کر یقینا بہت سے دوستوں کو اعتراض ہو گا کہ انسان کو درندہ کیسے کہہ سکتے ہیں۔ انسان تو اشرف المخلوقات ہے۔ فرشتوں اور جنوں سے بھی افضل ہے۔ شیطان حضرت آدم کو سجدہ نہ کرکے اللہ تعالی کا معتوب ہوا اور میں اسی انسان کو درندہ لکھ رہا ہوں، مگر کیا کروں اب67سال کی عمر میں اپنے پوتوں کے درمیان بیٹھ کر کالم لکھتے ہوئے ان انسانوں کو کیسے اشرف المخلوقات قرار دوں جو ڈیڑھ دو سال کی بچیوں سے جنسی زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں اور پھر ”ہمارا نظام“ان درندوں کو سزا بھی نہیں دے پاتا۔یہی وہ نظام ہے جس کو بدلنے کے لئے وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے آواز اٹھائی ہے۔ کچھ آوازیں یقینا ان کی تائید میں بلند ہوئی ہیں، مگر ن لیگ اور پیپلز پارٹی ”نظام بچانے“کے لئے وزیر داخلہ کے خلاف میدان میں اُتر آئی ہیں اور ”ان سے کہلوا کر“خاموش کرانے کے لئے کوششیں کر رہی ہیں، لیکن سچ تو یہ ہے کہ وہ نظام جس کے ”ڈھے جانے“اور اسے بدلنے کا ذکر سید محسن رضا نقوی نے کیا ہے وہ اس قدر تباہ و برباد ہو چکا ہے کہ وہ چند فیصد اشرافیہ سے اس ملک کے 25کروڑ عوام کا دفاع نہیں کر پا رہا۔

ملک میں روزانہ ہونے والے مظالم کا شکار صرف نوجوان، مرد، عورتیں اور بزرگ نہیں بن رہے بلکہ وہ معصوم بچے بھی ”شکار ہوتے ہیں“ جو اپنی جان بچانے کے لئے جدوجہد یا مزاحمت کرنا تو دور آواز تک بلند نہیں کر پاتے۔ بچوں پر ہونے والے مظالم کے حوالے سے آواز اٹھانے والی تنظیم ”ساحل“ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں ظلم کا شکار ہونے والے بچوں کے بارے ایک تفصیلی رپورٹ سامنے لیکر آئی ہے،جس کے مطابق جنوری سے جون کے چھ ماہ میں معصوم بچوں پر تشدد، جنسی استحصال، اغوا برائے تاوان، گمشدگی اور دیگر جرائم کے 1914واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں جنسی استحصال کے کیس 1015 ہیں، جبکہ اغوا کے 558، گمشدگی کے 101اور کم عمری میں شادی کے 38 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ جنسی استحصال کی رپورٹ ہونے والے 1015 واقعات میں سے 98کیسوں میں بچوں سے زیادتی کے بعد ان کی فلمیں بھی بنائی گئیں، انہی چھ ماہ میں 49نو مولود بچے سڑکوں کے کنارے پائے گئے۔

1914واقعات میں سے 58فیصد واقعات لڑکیوں اور 42 فیصد لڑکوں کے ساتھ پیش آئے۔ جبکہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے بچے 11سے 15سال کی عمر کے تھے۔پانچ سال اور کم عمر بچوں کی تعداد 95 تھی۔ چھ سے دس سال کے 329 اور 16 سے 18سال کے 356 بچے انسانی درندوں کا نشانہ بنے۔ ان واقعات میں 43 فیصد ملزم مظلومین کے شناسا تھے۔ جبکہ 34فیصد اجنبی تھے۔ 45فیصد بچوں کے ساتھ ظلم ان کے اپنے گھر میں ہوا۔ 18فیصد واقعات ملزموں کے گھر میں انجام پائے۔ یہ ظلم صرف شہروں میں نہیں بلکہ دیہات میں بھی اسی طرح ہوا جیسا شہروں میں ہو رہا ہے۔ البتہ شہروں میں 57فیصد اور دیہات میں 43فیصد واقعات ہوئے۔پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور قومی اسمبلی میں بھی اس کا حصہ50فیصد سے زیادہ ہے۔ان مظالم میں بھی پنجاب کا ”لائن شیئر“ہے۔ 80فیصد کیس پنجاب میں رپورٹ ہوئے جبکہ 15فیصد سندھ اور پانچ فیصد خیبرپختونخوا، اسلام آباد، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان میں رپورٹ ہوئے۔

رواں سال کے چھ ماہ کا تذکرہ تو ہو گیا اب سال 2024ء میں بچوں پر ہونے والے تشدد، جنسی زیادتی، اغوا، بچوں کی سوداگری، چائلڈ لیبر، کم عمری میں شادی کے حوالے سے سسٹین ایبل سوشل ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ پیش ہے،جس کے مطابق 2024ء میں پاکستان میں بچوں سے تشدد، جنسی زیادتی، اغوا، بچوں کی سوداگری، کم عمری میں شادی کے 7608 واقعات رپورٹ ہوئے۔ اس طرح یومیہ 21بچوں کو یہ ظلم بھگتنا پڑا،جبکہ اس کے مقابلے میں ملزمان کو سزا کی شرح بمشکل ایک فیصد ہے۔ 2024ء میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 2954، اغوا کے 2437، جسمانی تشدد کے 683، بچوں کی خرید فروخت کے 586، چائلڈ لیبر کے 895، کم عمری میں شادی کے 53واقعات رپورٹ ہوئے، جس میں بڑا صوبہ ہونے کے سبب پنجاب ایک بار پھر سب سے آگے رہا۔”گڈ گورننس“کے دعوؤں کے برعکس 2024ء میں پنجاب میں بچوں پر مظالم کے 6083 کیس رپورٹ ہوئے۔

جنسی زیادتی کے 2506کیس رپورٹ ہوئے، مگر سزا صرف 28 افراد کو دی جاسکی۔ بچوں کے اغوا کے2189 واقعات میں سزا چار افراد کو مل سکی۔ بچوں کی خرید فروخت کے 457 واقعات رپورٹ ہوئے ان میں سزا البتہ 267 افراد کو مل گئی۔ چائلڈ لیبر یعنی کمسن بچوں سے ملازمت کروانے کے 450واقعات رپورٹ ہوئے، مگر ”مالکان طاقتور با اثر“ہونے کی وجہ سے صرف 66 افراد کو سزا سنائی جا سکی۔ کم عمری میں شادی کے 26کیس رپورٹ ہوئے جن میں کسی کو سزا نہیں ملی۔ خیبرپختونخوا میں 1102 واقعات رپورٹ ہوئے،جن میں جنسی زیادتی کے 366، جسمانی تشدد کے 208، اغوا کے 93، بچوں کی خرید فروخت کے چھ اور کم عمری میں شادی کے تین کیس رپورٹ ہوئے۔ سندھ میں بچوں پر تشدد، زیادتی اغوا وغیرہ کے 354واقعات رپورٹ ہوئے، جس میں جنسی زیادتی کے 19،اغواء کے 152، بچوں کی خرید فروخت کے 121اور کم عمری میں شادی کے 24کیس رپورٹ ہوئے۔ البتہ سزا کسی کو نہیں ملی۔

بلوچستان میں بچوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے 69کیسوں میں جنسی زیادتی کے 63 کیس تھے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ برسوں میں بچوں پر جنسی تشدد کے22 ہزار واقعات ہو چکے ہیں جن میں صرف771کیسوں میں سزا ہوئی ہے۔ پنجاب میں 2025ء میں بچوں پر جنسی تشدد کے 3630 واقعات رپورٹ ہوئے،یعنی یومیہ نو بچے ظلم کا نشانہ بنے۔ جنسی تشدد کا نشانہ بننے والوں میں 53فیصد لڑکے اور 47فیصد لڑکیاں تھیں۔ سب سے بڑی زیادتی یہ کہ ان میں 116بہت چھوٹے بچے تھے۔ 54 فیصد واقعات شہر میں اور 40فیصد دیہات میں رونما ہوئے۔ ظلم کا شکار ہونے والوں میں 11سے 15سال کے بچے سب سے زیادہ تھے۔ یہ ہے ہمارا وہ نظام جسے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس نظام میں بچے بھی محفوظ نہیں ہیں۔ گھر سے باہر نکلنے والا بچہ اسی وقت محفوظ ہوگا جب اس کے ساتھ ظلم کرنے والے کو سخت ترین سزا ملے گی اور وہ سزا سی سی ڈی کا ”فل فرائی یا ہاف فرائی“نہیں ہونی چاہئے۔ سزا عدالتوں سے دلوانی پڑے گی۔