پنجاب میں گزشتہ دنوں افسروں کے تبادلوں سے بہت سے اچھے افسر سامنے آئے تو کچھ ایکسپوز بھی ہو ئے، کسی افسر کی اصل قابلیت اور طاقت کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب اسے اپنی پسند کی پوسٹنگ نہ ملے، کسی کی انتظامی صلاحیت اس وقت سامنے آتی ہے جب اسے مشکل محکمہ دے دیا جائے اور کسی کی مقبولیت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کے دفتر کا دروازہ ماتحتوں اور عام شہریوں کیلئے کھلا ہو یا بند،حالیہ دنوں میں پنجاب میں ہونے والی تقرریوں اور تبادلوں نے بیوروکریسی کے اندر کئی سوالات کو جنم دیا ہے، کون کس پوسٹنگ کا خواہش مند تھا؟ کس کو کیا ملا؟ کون اپنی پسند کا محکمہ حاصل نہ کر سکا؟ کس افسر کو نئی ذمہ داری قبول کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے؟یہ سوالات اسلئےاہم ہیں کہ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں بیوروکریسی محض فائلیں چلانے والا نظام نہیں، یہاں ایک سیکرٹری کا فیصلہ ہزاروں لوگوں کی زندگی، اربوں روپے کے منصوبوں اور حکومت کی پالیسی کے نتائج پر اثر انداز ہوتا ہے۔
حالیہ تقرریوں میں سب سے زیادہ زیر بحث نام ایڈیشنل چیف سیکرٹری افتخار علی سہو کا ہے، اگلے دن سابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی مخدوم طارق محمود الحسن نے ان کے اعزاز میں ایک شاندار عشائیہ دیا تو وہاں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کی موجودگی،انکے ہر دلعزیز ہونے کی گواہی دے رہی تھی ، ان کی نئی تقرری نے نہ صرف ان کی انتظامی صلاحیتوں کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کیا ہے بلکہ اس عہدے کے بارے بیوروکریسی میں ایک نئی بحث بھی رہی،کچھ حلقوں کی رائے ہے کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کا عہدہ انتظامی اثر و رسوخ کے اعتبار سے چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ جتنا طاقتور نہیں ، لیکن یہی بات شاید اس تقرری کو دلچسپ بناتی ہے، کیونکہ کسی عہدے کی طاقت ہمیشہ اس کی قانونی تعریف سے نہیں آتی، بعض اوقات افسر کی شخصیت، فیصلہ سازی، تجربہ اور حکومت کے اعتماد سے کسی پوسٹ کا وزن کئی گنا بڑھ جاتا ہے،افتخار سہو اس سے پہلے چیئرمین پی اینڈ ڈی کی حیثیت سے بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں، اب ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے منصب پر ان کی تعیناتی نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ حکومت نے انہیں محض ایک عہدہ نہیں دیا بلکہ ایک ایسا انتظامی کردار دیا ہے جہاں ان کی صلاحیتوں کو وسیع سطح پر استعمال کیا جا سکتا ہے،یہاں ایک دلچسپ سوال بھی پیدا ہوتا ہے، کیا کسی عہدے کی عزت افسر سے بنتی ہے یا افسر کی عزت عہدے سے؟پنجاب کی موجودہ بیوروکریسی اس سوال کا جواب خود دے رہی ہے۔
حالیہ تبادلوں میں ایک ایسے افسر بھی زیر بحث ہیں جن کی وجہ سے کئی نیک نام افسر دوسرے محکمے میں چلے گئے مگر موصوف پھر بھی اپنی پسند کا محکمہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے،اچھا افسر وہ نہیں جو صرف اپنی مرضی کے محکمے میں کارکردگی دکھائے، اصل افسر وہ ہے جو حکومت کی طرف سے دی گئی ذمہ داری کو اپنی پسند یا ناپسند سے بالاتر ہو کر قبول کرے اور اسے بہتر بنانے کی کوشش کرے،حالیہ دنوں میں ایک سیکرٹری کے بارے میں یہ تاثر بھی سامنے آیا کہ انہیں اپنی مطلوبہ پوسٹنگ نہیں مل سکی اور جس محکمے میں ان کی تعیناتی ہوئی وہاں ان کی آمد کو وہ گرمجوشی نہیں مل سکی جس کی انہیں توقع تھی،یہ معاملہ کسی فرد کی ذات سے زیادہ ایک بڑے انتظامی رویے کی طرف اشارہ کرتا ہے،اگر ایک سیکرٹری اپنے نئے محکمہ میں پہلے دن ہی یہ محسوس کرنے لگے کہ لوگ اسے قبول نہیں کر رہے تو اسے یہ دیکھنا ہوگا کہ مسئلہ محکمہ میں ہے یا اس کے اپنے انتظامی انداز میں ، نئے سربراہ کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وہ اعتماد کیسے حاصل کرے گا۔اسی محکمے کے سابق سیکرٹری کے انتظامی انداز کا تذکرہ بھی خاصا اہم ہے، ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے دفتر کا دروازہ صرف عوام کے لیے نہیں بلکہ محکمہ کے جونیئر افسران کیلئےبھی کھلا رہتا تھا،کوئی جونیئر افسر کسی مسئلے پر رہنمائی چاہتا تو وہ اپنے سربراہ تک پہنچ سکتا تھا، اسے یہ خوف نہیں ہوتا تھا کہ ایک چھوٹا افسر بڑے افسر کے دفتر میں کیسے داخل ہوگا،یہ بظاہر ایک معمولی بات ہے، لیکن انتظامی نظام میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔
حالیہ انتظامی منظرنامے میں محکمہ آبپاشی کے سیکرٹری واصف خورشید کا ذکر بھی اہم ہے، بیوروکریسی کے حلقوں میں ان کی کارکردگی کو بہترین قرار دیا جا رہا ہے اور یہ قیاس بھی کیا جا رہا ہے کہ انہیں کسی بھی وقت مزید اہم ذمہ داری دی جا سکتی ہے،آبپاشی پنجاب کا ایسا محکمہ ہے جس کا تعلق براہ راست کسان، زراعت، پانی کی تقسیم اور صوبے کی معیشت سے ہے، نہری نظام میں معمولی انتظامی خرابی بھی لاکھوں ایکڑ زمین اور ہزاروں کسانوں کو متاثر کر سکتی ہے،ایسے محکمے میں بیٹھنے والے سیکرٹری کی کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ اس کے دفتر میں کتنی فائلیں آئیں، بلکہ یہ ہے کہ پانی کی تقسیم کتنی منصفانہ ہوئی، نہروں کا نظام کتنا بہتر ہوا، سیلاب اور اسکی تباہ کاریوں سے کیسے نمٹا گیا، شکایات کتنی کم ہوئیں اور کسان کو کیا فائدہ پہنچا۔پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی میں نئی تعیناتی بھی کم اہم نہیں، یہاں راجہ منصور نے بڑا اچھا کام کیا لاہور کو خوبصورت بنانا یقیناً حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اس لئے نئے سربراہ سے کہا گیا ہے کہ وہ براہ راست سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے راہنمائی لیں ،حالیہ تبادلوں کے بعد سب سے بڑا سوال یہ بھی ہے کہ پنجاب میں پوسٹنگ کا اصل معیار کیا ہے؟ افسر کی کارکردگی؟تجربہ؟انتظامی صلاحیت؟سیاسی قیادت کا اعتماد؟یا پھر کسی طاقتور حلقے اور گروپ تک رسائی؟یہ سوال صرف اپوزیشن یا صحافی نہیں اٹھاتے، بیوروکریسی کے اندر بھی افسران خاموشی سے یہی دیکھتے ہیں کہ کس کو کہاں لگایا گیا اور کیوں لگایا گیا۔ایک افسر کی پوسٹنگ پورے بیوروکریسی کو ایک پیغام دیتی ہے،اگر بہترین کارکردگی دکھانے والے افسر کو بہتر ذمہ داری ملتی ہے تو پیغام جاتا ہے کہ محنت کرو، نتیجہ دو اور آگے بڑھو،اگر سیاسی قربت یا ذاتی تعلقات کو زیادہ اہمیت ملتی دکھائی دے تو پیغام بالکل مختلف ہوتا ہے۔
حالیہ تبادلوں نے بلاشبہ بہت سے افسروں کو ایکسپوز کیا ہے تو کسی کا انتظامی قد بڑھا،افتخار سہو نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی پوسٹ کو مزید اہم بنا دیا ہے ،محکمہ آبپاشی میں اچھی کارکردگی دکھانے والے افسر کو اگر بہتر ذمہ داری ملتی ہے تو یہ ایک اچھا پیغام ہوگا،اور اگر کسی افسر کو صرف اس لیے اہم ذمہ داری ملتی ہے کہ وہ کسی خاص گروپ کا ممبر ہے تو یہ پیغام بھی اتنا ہی واضح ہوگا۔پنجاب کو اس وقت ایسے افسران کی ضرورت ہے جو کسی شخصیت کے قریب ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کام کی وجہ سے پہچانے جائیں،جیسا کہ سیکرٹری مواصلات و تعمیرات راجہ جہانگیر ،وزیر اعلیٰ سمجھتی تھیں کہ سابق سیکرٹری سہیل اشرف کے جانے کے بعد یہ محکمہ بیٹھ جائے گا اور مطلوبہ نتائج نہیں مل سکیں گے مگر چیف سیکرٹری کی طرف سے راجہ جہانگیر کے انتخاب کے بعد یہ محکمہ اسی رفتار بلکہ پہلے سے بہتر کام کر رہا ہے۔

