شی جن پنگ کا مثبت لہجے میں ٹرمپ کو تائیوان پرسخت پیغام

بیجنگ( نیویارک ٹائمز، شِنہوا، وائٹ ہاؤس)چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ اگر تائیوان کے مسئلے کو غلط طریقے سے ہینڈل کیا گیا تو یہ دونوں ممالک کے درمیان تصادم یا براہِ راست ٹکراؤ کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بات دونوں رہنماؤں کی بیجنگ میں ہونے والی اہم سربراہی ملاقات کے دوران سامنے آئی جو تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا چین کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔ملاقات سے قبل شی جن پنگ نے ٹرمپ کا شاندار استقبال کیا، جس میں اعزازی گارڈ، 21 توپوں کی سلامی اور “اسٹار اسپینگلڈ بینر” کی دھن شامل تھی۔ بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے دو گھنٹے سے زائد طویل بات چیت کی۔

شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کو “حریف نہیں بلکہ شراکت دار” ہونا چاہیے جبکہ ٹرمپ نے انہیں “بہترین رہنما” قرار دیا۔بعد میں سرکاری عشائیے میں شی جن پنگ نے کہا کہ “چین کی عظیم نشاۃ ثانیہ اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانا ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔” ٹرمپ نے اس تقریب کو “شاندار استقبال” قرار دیا اور شی جن پنگ کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت بھی دی۔

رپورٹ کے مطابق تائیوان کے مسئلے پر سخت وارننگ کے باوجود دونوں رہنماؤں نے مجموعی طور پر مثبت لہجہ اختیار کیا اور تعاون پر زور دیا۔وائٹ ہاؤس کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز کھلا رہنا چاہیے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔

چینی سرکاری میڈیا نے اپنی رپورٹ میں ایران یا آبنائے ہرمز کا ذکر نہیں کیا، جبکہ امریکی بیان میں ایران، تجارت، فینٹانل اور دیگر عالمی امور پر بات چیت کی تفصیل شامل تھی۔ماہرین کے مطابق یہ ملاقات ایک طرف سخت جیوپولیٹیکل تناؤ کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف دونوں طاقتوں کے درمیان تعلقات میں محتاط بہتری کے اشارے بھی دیتی ہے۔