ایس آئی ایف سی کے تعاون سے ہونے والے دورے سے سرمایہ کاری
ٹیکنالوجی کی منتقلی اور کاروباری تعاون کے نئے مواقع پیدا ہونگے
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط پر مبنی مضبوط اور دیرینہ معاشی تعلقات موجود ہیں، اور دوطرفہ معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کاروباری شراکت داری، زیادہ سرمایہ کاری اور بہتر مارکیٹ رسائی میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔
وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ایک اعلیٰ سطحی امریکی کاروباری وفد کے دورے کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ یہ وفد اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تعاون سے پاکستان کے دورے پر آیا تھا۔
اس موقع پر لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی، رائس لینڈ گروپ کے چیئرمین طاہر جاوید، ایس آئی ایف سی امریکہ کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ کرنل جہانزیب، شکاگولینڈ چیمبر آف کامرس کے صدر نوید انور، حفیظ خان، سابق صدر طاہر جاوید ملک، ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان احد امین ملک، ندیم انصاری، رانا نثار، علی عمران اور رانا شعبان اختر، امریکی کاروباری وفد کے معزز اراکین اور کاروباری برادری کے نمائندے بھی موجود تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رائس لینڈ گروپ کے چیئرمین طاہر جاوید نے کہا کہ وفد نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت، وزیر اعظم، ایس آئی ایف سی حکام، وفاقی وزراء اور صوبائی قیادت سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور ملک بھر میں سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کے حوالے سے بھرپور جوش و خروش دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ وفد نئے اعتماد کے ساتھ پاکستان سے واپس جا رہا ہے کیونکہ پہلی بار سرمایہ کاروں کے سامنے سرمایہ کاری کے لیے تیار منصوبوں کا ایک جامع پورٹ فولیو پیش کیا گیا ہے۔
طاہر جاوید نے صحت، فارماسیوٹیکل، طبی آلات، زراعت، ٹیلی میڈیسن اور تجارتی سہولت کاری کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے پاکستان میں تیار کردہ ایک طبی آلے کے لیے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کی منظوری حاصل کی ہے۔ انہوں نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے لیے ایف ڈی اے سرٹیفکیشن حاصل کرنے میں تعاون کی پیشکش بھی کی۔ انہوں نے سویابین کی درآمد، میڈیکل ٹورازم اور امریکہ میں خدمات انجام دینے والے پاکستانی نژاد طبی ماہرین کے ذریعے صحت کے شعبے میں تعاون کے مواقع کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے ایس آئی ایف سی اور پنجاب حکومت کی جانب سے سرمایہ کاری کے عملی مواقع پیش کرنے کی کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ وفد کے اراکین جلد پاکستان میں سرمایہ کاری کے اقدامات آگے بڑھائیں گے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایس آئی ایف سی امریکہ کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ کرنل جہانزیب نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ایک وسیع کوشش کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفد پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول، کاروبار میں آسانی اور مختلف شعبوں میں موجود مواقع کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران حاصل ہونے والی آراء مستقبل میں امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (DFC) اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف امریکہ (EXIM Bank) کے ساتھ رابطوں کی راہ ہموار کریں گی، جن کے وفود رواں سال پاکستان آنے کی توقع ہے تاکہ نجی شعبے کے تعاون سے مالیاتی مواقع کا جائزہ لیا جا سکے۔
صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل نے اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کی جانب سے دورے کے انعقاد اور رابطہ کاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایس آئی ایف سی نے عالمی برادری کے سامنے پاکستان کی سرمایہ کاری کی صلاحیت اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے دوروں کے دوران وفد کے اراکین نے پاکستان کی سیاسی قیادت اور کاروباری برادری سے ملاقاتیں کیں، جس سے انہیں ملک کی معاشی طاقت اور سرمایہ کاری کے امکانات کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وفد کے اراکین پاکستان سے مثبت تاثر اور ملکی کاروباری ماحول پر زیادہ اعتماد کے ساتھ واپس جائیں گے۔
فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے جہاں پاکستان کی تقریباً 20 فیصد برآمدات جاتی ہیں۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2024-25 میں دوطرفہ تجارت تقریباً 8.4 ارب امریکی ڈالر تھی جو 2025-26 میں بڑھ کر 9.4 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ امریکہ کو پاکستان کی برآمدات تقریباً 6.1 ارب امریکی ڈالر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط کاروباری شراکت داری اور بہتر مارکیٹ رسائی سے آئندہ برسوں میں تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفد میں ٹیکسٹائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صحت، رئیل اسٹیٹ، اہم معدنیات اور کان کنی، توانائی، دفاعی ٹیکنالوجی، کاروباری خدمات، انشورنس اور زراعت سمیت مختلف شعبوں کے نمائندے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفد کا تجربہ اور مہارت مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، سرمایہ کاری کی شراکت داری اور علم کے تبادلے کے بہترین مواقع فراہم کرتی ہے۔
پنجاب کی قومی معیشت میں اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کے صدر نے کہا کہ صوبہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں تقریباً 55 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور ملکی معیشت کا بنیادی محرک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بڑی صارف منڈی، ہنر مند افرادی قوت، قائم شدہ صنعتی مراکز اور اہم جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش مقام ہے۔ انہوں نے وفد کو پنجاب میں مزید مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
فہیم الرحمٰن سہگل نے پائیدار معاشی ترقی کے لیے امن اور استحکام کی اہمیت پر بھی زور دیا اور خطے میں ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پاکستان اور امریکہ کے مثبت کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تعاون، امن اور معاشی ترقی کے لیے پُرعزم ہے، جو خوشحالی اور عالمی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

