طوفانی بارش نے کراچی کو ڈبو دیا، دیواریں گرنے سے خاتون اور 4 بچے جاں بحق

کراچی (بیورورپورٹ+ایجنسیاں) کراچی میں شدید بارش نے جل تھل ایک کردیا، کئی سڑکیں ڈوب گئیں، ریڈ لائن منصوبے سمیت ادھورے ترقیاتی کاموں نے شہریوں کو دہری مشکل میں مبتلا کردیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آج صبح 8 تا شام 5 بجے تک سب سے زیادہ 145 ملی میٹر بارش گلشن حدید میں ریکارڈ کی گئی، ملیر لیاقت مارکیٹ اور سرجانی ٹاؤن سمیت کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، دیواریں گرنے کے واقعات میں 4 بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔

تفصیل کے مطابق کراچی میں طویل انتظار کے بعد ہونے والی بارش نے میئر کراچی اور سندھ حکومت کے دعوؤں کو دھو ڈالا۔ شہر میں صبح شروع ہونے والے بارش کے سلسلے نے جل تھل ایک کردیا، مسلسل کئی گھنٹے بارش کے باعث شہر کے بیشتر علاقے اور مرکزی سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آج صبح 8 تا شام 5 بجے تک سب سے زیادہ 145 ملی میٹر بارش گلشن حدید میں ریکارڈ کی گئی، اولڈ ایئرپورٹ 138، کیماڑی 137، جناح ٹرمینل پر 135 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ یونیورسٹی روڈ 132، ڈی ایچ اے 121، فیصل بیس 114، نارتھ کراچی108، سعدی ٹاؤن 103، کورنگی 96، ناظم آباد 92، گلشن معمار 75، مسرور بیس 75، اورنگی ٹاؤن 66 اور بحریہ ٹاؤن 4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

کراچی ویدر اپ ڈیٹ کے مطابق صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک شہر میں سب سے زیادہ 212 ملی میٹر بارش گلستان جوہر بلاک 12 میں ریکارڈ کی گئی جبکہ کورنگی میں207، گلشن رومی 203، گلشن حدید 200، ملیر سعود آباد 182 اور جناح ایونیو پر 178 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

کراچی ویدر اپ ڈیٹ کے مطابق گلشن اقبال میں 156 ملی میٹر، فیڈرل بی ایریا بلاک 16 میں 156 ملی میٹر، فیڈرل بی ایریا بلاک 14 میں 153 ملی میٹر، نارتھ ناظم آباد 148، گلستان جوہر بلاک ون میں 143، کراچی ایئرپورٹ 138، سرجانی سیکٹر 2 میں 135، نارتھ ناظم آباد بلاک اے میں 130، پی آئی بی کالونی میں 128 اور محمود آباد میں 127 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

ڈی ایچ اے فیز فور میں 126.7، کلفٹن اور صدر میں 126، اسکیم 33 میں 125، نارتھ کراچی (اقرا یونیورسٹی) میں 122، کھارادر میں 122، گلستان جوہر بلاک 5 میں 117، اسٹیڈیم روڈ 112، صائمہ عربین ولاز 111، کیماڑی 108، بلدیہ ٹاؤن 103، گڈاپ ٹاؤن (جنوبی) 100، سی ویو (کلفٹن) 90.4، ڈی ایچ اے سٹی 86.4، ملیر کاٹھور (سپرہائی وے) 86، گڈاپ ٹاؤن (شمالی) 31 جبکہ بحریہ ٹاؤن میں 16 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

شہر میں بارش کے باعث دیواریں گرنے کے 2 حادثات میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔ گلستان جوہر بلاک 12 کے قریب گھر کی دیوار گرنے سے 4 افراد جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 4 سالہ مریم، 3 سالہ حمزہ اور سمیعہ کے ناموں سے ہوئی جبکہ زخمیوں کی شناخت نہ ہوسکی۔ اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے 11 میں بارش کے باعث مکان کی دیوار گرنے سے ملبے تلے دب کر 8 سالہ عبداللہ جاں بحق ہوگیا۔

کراچی کے علاقے سولجر بازار نمبر ایک میں تیز بارشوں کے باعث اپارٹمنٹ کی دیوار گرنے سے کئی لوگ ملبے تلے دب گئے جنہیں نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔شاہراہ فیصل پر نرسری، فیصل بیس سمیت کئی مقامات پر گھٹنوں گھٹنوں پانی جمع ہوگیا، نیشنل ہائی وے پر قائد آباد اور قذافی ٹاؤن کے اطراف بھی سڑکوں پر پانی کھڑا ہوگیا، ملیر لیاقت مارکیٹ سمیت کئی علاقوں میں گھروں میں کئی کئی فٹ پانی داخل ہوگیا۔

صدر سمیت اولڈ ایریا کی بیشتر سڑکوں پر اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، نارتھ ناظم آباد کو مسلسل بارش کے باعث کلاؤڈ برسٹ جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔ ریڈ لائن منصوبے کے تعمیراتی کام کے باعث یونیورسٹی روڈ پر صفورہ، موسمیات، نیو ٹاؤن، جیل چورنگی تک صورتحال تشویشناک ہوگئی۔

بارش کے بعد شہر کی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ادھورے ترقیاتی کاموں نے رہی سہی کسر پوری کردی۔مسلسل بارش کے باعث کراچی میں اربن فلڈنگ کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ شہر کی تقریباً ہر سڑک، شاہراہ اور گلی پانی میں ڈوب گئی۔ سڑکوں پر فٹ پاتھ اور گرین بیلٹ نظروں سے اوجھل ہوگئے۔

سڑکوں پر پانی کھڑا ہونے سے شارع فیصل، یونیورسٹی روڈ، اسٹیڈیم روڈ، راشد منہاس روڈ سمیت مختلف شاہراہوں پر شدید ٹریفک جام ہوگیا۔ مرکزی شاہراہوں پر گاڑیاں پھنس گئیں، دفاتر پہنچنے والے کراچی کے شہری دفاتر میں پھنس گئے جبکہ گھروں کو روانہ ہونے والے سڑکوں پر رُل گئے۔

ملیر، مارٹن روڈ، سرجانی ٹاؤن سمیت مضافاتی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا اور فرنیچر سمیت قیمتی سامان پانی میں تیرنے لگا۔ گلشن اقبال، گلستان جوہر اور پورا اسکیم 33 بھی پانی میں ڈوب گیا۔لیاقت آباد میں سڑک دھسنے سے مسافر بس گڑھے میں پھنس گئی، عزیز آباد میں سڑک دھسنے سے موٹرسائیکل کو نقصان پہنچا، شہر کی مختلف سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے موٹرسائیکلیں خراب ہوگئیں۔

تیز بارش کے باعث شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی غائب ہوگئی۔ کراچی کے 2100 فیڈرز میں سے آدھے ٹرپ کرگئے یا بند کردیے گئے، تاہم کے الیکٹرک نے دعویٰ کیا ہے کہ بارش کے حالیہ اسپیل کے بعد کے الیکٹرک کا بجلی تقسیمی نظام مجموعی طور پر مستحکم رہا ہے۔ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق کراچی کو 2100 میں سے 1950 سے زائد فیڈرز سے بلاتعطل بجلی کی فراہمی جاری ہے، کلیئرنس کے بعد بارش سے متاثرہ فیڈرز پر بجلی بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں