غزہ میں پہلی سرد بارش نے تباہی مچادی، 70 ہزار خیمے زیرِ آب، 30 لاکھ ڈالر سے زائد نقصان

غزہ (رائٹرز، الجزیرہ) غزہ کی پٹی میں موسم سرما کی پہلی موسلا دھار بارش نے بے گھر فلسطینیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا، صرف 12 گھنٹوں کے دوران تقریباً 70 ہزار خیمے پانی میں ڈوب گئے جبکہ ابتدائی تخمینے کے مطابق 30 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔

غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کے مطابق شدید بارش اور خراب موسمی حالات کے باعث بے گھر افراد کے خیموں میں پانی بھر گیا، درجنوں خستہ حال دیواریں اور چھتیں گرگئیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ کئی مقامات پر عمارتوں کے مزید منہدم ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔

غزہ کی شہری دفاع کی ٹیموں کے ترجمان محمود باسل کے مطابق بارش شروع ہونے کے بعد صرف 10 گھنٹوں میں امدادی اداروں کو شہریوں کی جانب سے تقریباً 1500 ہنگامی کالز موصول ہوئیں۔ کئی عارضی پناہ گاہیں مکمل طور پر زیرِ آب آگئیں اور وہاں مقیم خاندانوں کو اپنا ٹھکانہ چھوڑنا پڑا۔

شدید بارش کے باعث بعض علاقوں میں پانی کی سطح 30 سے 40 سینٹی میٹر تک بلند ہوگئی۔ متاثرہ خاندانوں کے بستر، کمبل، کپڑے اور دیگر ضروری سامان بھیگ گیا، جبکہ بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کو سردی اور بیماریوں کے خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

غزہ کے حکام نے بتایا کہ امدادی سرگرمیوں میں ایندھن کی قلت، تباہ شدہ مشینری اور پانی نکالنے کے آلات کی عدم دستیابی بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ الشفا اسپتال کے ہنگامی شعبے میں بھی بارش کا پانی داخل ہوگیا تھا، جس کے باعث تقریباً 4 گھنٹے تک اس کی خدمات متاثر رہیں۔

غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر نے اسرائیل پر امدادی سامان، عارضی پناہ گاہوں اور تعمیراتی مشینری کی آمد میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ بعض ایسے آلات کی آمد محدود کی جاتی ہے جنہیں فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے امدادی اداروں اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے بھی غزہ میں بے گھر افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہوں، گرم کپڑوں، خیموں اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔