اوٹاوا (کینیڈین پریس، ایسوسی ایٹڈ پریس) کینیڈا، برطانیہ، فرانس اور آسٹریلیا نے فلسطین میں صدارتی اور قانون ساز انتخابات ملتوی کیے جانے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور انتخابات مزید تاخیر کے بغیر کرانے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
چاروں ممالک کی جانب سے منگل کو جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ انتخابات ملتوی ہونے سے فلسطینی عوام اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال کے موقع سے محروم ہوگئے ہیں، جبکہ انتخابات فلسطینی اتھارٹی کے اصلاحاتی عزم کا ایک اہم حصہ ہیں۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی اور قانون ساز انتخابات ستمبر 2027ء تک ملتوی کردیے ہیں۔ محمود عباس 2005ء سے فلسطینی صدر ہیں۔ فلسطین میں آخری قانون ساز انتخابات 2006ء میں ہوئے تھے، جن میں حماس نے کامیابی حاصل کی تھی۔ اگلے سال مختصر خانہ جنگی کے بعد حماس نے غزہ کا کنٹرول سنبھال لیا، جہاں وہ اب بھی حکمران ہے، جبکہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی حکومت ہے۔
تنظیم آزادیٔ فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر جاری بیان میں کہا تھا کہ مشرقی بیت المقدس، مغربی کنارے اور غزہ کی صورتِ حال انتخابات کے انعقاد کے لیے سازگار نہیں۔ کمیٹی کے مطابق اسرائیل نے انتخابی مواد اور بین الاقوامی مبصرین کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت بھی نہیں دی۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس مؤقف کو ایک اور مضحکہ خیز جھوٹ قرار دیا۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے جولائی 2025ء میں اعلان کیا تھا کہ کینیڈا کئی دوسرے ممالک کے ساتھ فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کارنی کے مطابق اس فیصلے کا انحصار فلسطینی اتھارٹی کی ضروری اصلاحات کے عزم پر ہوگا۔
کینیڈین حکومت نے ستمبر 2025ء میں جاری بیان میں ان اصلاحات میں فلسطینی علاقوں کو غیر عسکری بنانے اور 2026ء میں انتخابات کرانے کو شامل کیا تھا، جن میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ اس وقت کینیڈین حکام نے کہا تھا کہ محمود عباس نے اصلاحات کے لیے عزم ظاہر کیا ہے، تاہم فلسطینی اتھارٹی نے گزشتہ سال خبردار کیا تھا کہ غزہ میں تنازع ختم ہونے کے کم از کم ایک سال بعد ہی انتخابات ممکن ہوں گے۔
مارک کارنی نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کا مقصد دو ریاستی حل کے امکان کو برقرار رکھنا قرار دیا تھا، جس کے تحت اسرائیل اور فلسطین امن کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ موجود رہ سکیں۔ اوٹاوا کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی حکومت اور حماس جیسے فلسطینی مسلح گروہوں کے اقدامات نے دو ریاستی حل کو نقصان پہنچایا ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ ایک سال سے نافذ ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق علاقے میں تشدد جاری ہے اور خوراک، پانی اور دیگر امداد کی فراہمی میں سنگین مسائل درپیش ہیں۔ حماس اب بھی غزہ کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی مغربی کنارے میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں اضافے پر خبردار کیا ہے۔
کینیڈا اور اس کے اتحادیوں کے مشترکہ بیان میں تسلیم کیا گیا کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق انتخابات کرانے میں نمایاں مشکلات اور رکاوٹیں موجود ہیں۔ تاہم بیان میں کہا گیا کہ مرکزی انتخابی کمیشن ان مشکلات سے نمٹنے اور عوام کو ووٹ ڈالنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے عملی تیاریاں آگے بڑھا چکا ہے۔ بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو انتخابات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی حکمرانی کے نظام کو مضبوط بنانا ایک قابلِ عمل دو ریاستی حل کی ادارہ جاتی بنیادیں استوار کرنے کے لیے ضروری ہے، جو اسرائیل اور فلسطین دونوں کے لیے پائیدار امن اور سلامتی کا واحد راستہ ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ حماس، جسے کینیڈا نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے، فلسطین کے مستقبل کے حکومتی نظام میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتی۔
کینیڈین وزیراعظم کے دفتر اور محکمہ عالمی امور نے انتخابات ملتوی ہونے کے کینیڈا کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات کا فوری جواب نہیں دیا۔
دوسری جانب کینیڈا کی کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پوئیلیور نے کہا کہ کینیڈا کو ایسی حکومت کو امداد نہیں دینی چاہیے جو انتخابات کرانے کا وعدہ پورا نہیں کر رہی۔ انہوں نے منگل کو اونٹاریو کے شہر ونڈسر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ کینیڈین عوام کے ٹیکسوں سے ایسی آمرانہ اور دہشت گرد حکومت کو امداد کیوں دی جائے۔
اسرائیل اور یہودی امور کے مرکز نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا اور اس کے اتحادیوں کا مؤقف اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے ریاست کو تسلیم کیے جانے کی بنیاد بننے والے اپنے وعدوں میں سے ایک پورا نہیں کیا۔ مرکز نے سوال اٹھایا کہ کینیڈین حکومت فلسطینی اتھارٹی کے لیے کسی ممکنہ نتیجے کی وضاحت کیے بغیر انتخابات میں رکاوٹ کا ذمہ دار اسرائیل کو کیوں ٹھہرا رہی ہے۔
اسرائیلی حکومت پہلے ہی کینیڈا کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کے فیصلے پر تنقید کرتی رہی ہے۔ کینیڈا میں اسرائیلی سفیر ایدو موید نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی بدعنوان ہے اور اسرائیل کے ساتھ امن سے رہنے کیلئے سنجیدہ نہیں۔

