جنیوا،ًمسی ساگا (نمائندہ خصوصی): 151ویں انٹر پارلیمنٹری یونین (IPU) اسمبلی کے خواتین ارکانِ پارلیمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے رکنِ پارلیمنٹ اقرا خالد نے کہا کہ آن لائن تشدد ایک سنگین مسئلہ ہے جو خواتین کی عوامی اور سیاسی شرکت میں حقیقی رکاوٹ بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا”یہ ایک ایسا تجربہ ہے جس سے ہم میں سے اکثر گزر چکی ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اسے اس کے اصل نام سے پکاریں — یہ خواتین کی شرکت کے راستے میں ایک رکاوٹ ہے۔”
اقرا خالد نے اس موقع پر زور دیا کہ ڈیجیٹل دنیا کو ایسا پلیٹ فارم بنایا جائے جو خواتین کو طاقت اور آواز دے، نہ کہ انہیں خاموش کرے۔انہوں نے کہا کہ آن لائن بدسلوکی اور نفرت انگیز مہمات کے خلاف مشترکہ عالمی حکمتِ عملی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ خواتین محفوظ ماحول میں اپنی قیادت اور خدمات جاری رکھ سکیں۔
علاوہ ازیں رکنِ پارلیمنٹ اقرا خالد نے اپنے انتخاب کی 10ویں سالگرہ کے موقع پر ایک جذباتی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا کی اصل روح باہمی احترام، برداشت اور ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔

اقرا خالد نے اپنے بیان میں کہا”’جب میں پہلی بار کینیڈا آئی تو حیران تھی کہ مختلف مذاہب، نظریات اور پس منظر رکھنے والے لوگ ایک ساتھ پُرامن زندگی کیسے گزار سکتے ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر بھی تعجب ہوتا تھا کہ چند مربع فٹ زمین پر ہرن، کویوٹی، گلہریاں، سانپ اور انسان سب ایک دوسرے کے ساتھ حصہ بانٹ کر رہتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہی توازن اور ہم آہنگی دراصل کینیڈین ہونے کا مطلب ہے، اور اسی جذبے نے انہیں عوامی خدمت کے میدان میں آنے کی ترغیب دی تاکہ اس سمجھ بوجھ اور بقائے باہمی کے جذبے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اقرا خالد نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں کینیڈا نے چیلنجز اور تبدیلیوں کے باوجود ترقی کی ہے۔ ’’ہم نے ایک عالمی وبا کا سامنا کیا، نفرت اور تقسیم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوئے، خواتین کے حقوق کے فروغ، انسانی اسمگلنگ کے خاتمے، خاندانوں کو غربت سے نکالنے، سستی چائلڈ کیئر اور ڈینٹل کیئر پالیسیوں، کمیونٹی سیفٹی اور مساوات کے فروغ کیلئے کام کیا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا”میرے نزدیک جمہوریت صرف انتخابات یا قوانین کا نام نہیں، بلکہ ہمدردی، احترام اور ایک دوسرے کو سننے کا نام ہے۔ کینیڈین قوم جانتی ہے کہ اختلافِ رائے کے باوجود ایک ساتھ آگے بڑھنا کیسے ممکن ہے۔”
اپنے پیغام کے اختتام پر اقرا خالد نے کہا کہ “دس سال بعد بھی میں سیکھ رہی ہوں، سن رہی ہوں، اور کام کر رہی ہوں تاکہ اس وعدے کو پورا کر سکوں جس پر یہ ملک قائم ہے — کہ جب لوگ حصہ لیتے ہیں اور سامنے آتے ہیں تو ہم سب مل کر ایک مضبوط تر کینیڈا بناتے ہیں۔”
انہوں نے اپنے حلقے مسی ساگا–ایرن ملز کے عوام، اپنے والدین اور تمام معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، “کینیڈا مضبوط رہے۔”

