امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران کے خلاف جس روز سے مشترکہ جنگ شروع کی گئی، تب ہی سے وہ یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ ایران کی تمام دفاعی قوت ختم کر دی اور ایک ہفتے کے اندر یہ جنگ ختم ہو جائے گی،لیکن یہ عرصہ طویل ہوتا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی جنگ کا دائرہ بھی وسیع ہوتا جا رہا ہے،تازہ خبر یہ ہے کہ پینٹاگون نے جنگی اخراجات کے لئے مزید200ارب ڈالر مانگ لئے ہیں جس پر امریکہ میں تنقید بھی شروع ہو گئی، حتیٰ کہ ری پبلکن بھی معترض بتائے جا رہے ہیں۔پینٹاگون کی طرف سے اتنی بڑی رقم کے مطالبے سے چونکنے کی ضرورت نہیں کہ یہ رقم امریکہ کے کسی وزیر نے کیوں نہیں مانگی، عرض یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت پر اعتراض کرنے والے غور کر لیں کہ صدر ٹرمپ بڑے طاقتور صدر ہیں لیکن جنگ تو پینٹاگون کی مرضی سے آگے بڑھ رہی ہے اور امریکہ میں بھی ڈیپ سٹیٹ کا تصور موجود ہے اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ جنگ ِ عظیم دوم کے بعد ہی سے اس ادارے نے ایک سو سالہ پروگرام ترتیب دے کر اسی کے مطابق تیاریاں کیں کہ دنیا کو امریکہ کا محتاج بنا کر رکھا جائے۔ نو، گیارہ کے علاوہ عراق، لیبیا، شام اور دیگر ممالک کا جو حال کیا گیا وہ اب تاریخ ہے۔ عراق کے صدر صدام حسین طاقتور صدر تھے لیکن اس پینٹاگون نے جب تک چاہا وہ رہے اور پھر انسانیت سوز ہتھیاروں کا الزام لگا کر ان کو گولی کا نشانہ بنا دیا، ایسا ہی لیبیا اور شام میں کیا گیا اور اب ایران پر جنگ مسلط کر دی گئی اور یہ اسرائیل کے ساتھ مل کر کی گئی تاہم ایران کی طرف سے ان کو غیر متوقع مزاحمت کا سامنا ہوا اور جلد سرنڈر کے تمام اندازے غلط ہو گئے اور شاید پہلی بار اسرائیل کو بھی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ درست ہے کہ ایران کی نسبت امریکہ بہت وسائل والا طاقتور ملک ہے جو دنیا میں یونی پاور کی حیثیت رکھتا ہے،خلیج اور مشرق وسطیٰ کے لئے اسرائیل کو ایک بدمعاش اور ڈان کی طرح پرورش کیا گیا اور اسرائیل کے توسیعی منصوبوں میں جہاں یورپ خاموش رہ کرتا بلکہ کرتا رہا وہاں امریکہ نے اسے پرورش کیا اور آج ایک چھوٹا سا ملک علاقے میں ”بڑا بدمعاش“ بن چکا ہے۔1948ء سے اب تک کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو راندہ درگاہ یہودی بالفور معاہدہ کے بعد سے مسلسل طاقت پکڑتے اور اسرائیلی سرحدوں کو توسیع دیتے رہے۔1979ء کا معرکہ سب کو یاد ہو گا جب اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں، صحرا سینا اور اردن کے کئی حصوں پر قبضہ کر لیا تھا اور بیشتر علاقہ اب اس ریاست کا جزر بن چکا ہوا ہے۔
ایران پر جنگ مسلط کرنے کے حوالے سے ماہرین اپنی اپنی رائے سے مستفید کر رہے ہیں لیکن اس حقیقت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے کہ یہ سب پینٹاگون کے سو سالہ منصوبے کا حصہ ہے۔حالیہ جنگ نے یہ امر بھی عام کر دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ہر ملک میں امریکی اڈے موجود ہیں اور تیل کی دولت سے مالا مال یہ ملک دفاعی لحاظ سے اِس پرا نحصار کرتے چلے آ رہے ہیں یہ کوئی خفیہ راز نہیں تھا لیکن عام آدمی کو اس سے غرض نہیں تھی، ایران پر حملے اور اس جنگ کی طوالت نے یہ بات عام کر دی ہے کہ ہر مسلم ملک میں امریکہ کے فوجی اڈے موجود ہیں۔
حالات کا تقاضہ ہے کہ اس سلسلے میں زیادہ منہ ماری نہ کی جائے کہ نازک مقام بھی آتے ہیں،میں نے تو1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگ کی رپورٹر کی حیثیت سے کوریج بھی کی ہوئی ہے اور ان حالات کو سمجھتا بھی ہوں اور جانتا ہوں کہ ایک صحافی کی حدود کہاں تک ہوتی ہیں،اس سلسلے میں رمضان المبارک سے قبل میں نے انہی سطور میں ایک سے زیادہ بار عرض کیا تھا کہ ہمارے پاکستانی زعماء ایک تنے ہوئے رسے پر چل رہے ہیں،کہ دنیا کے بدلتے حالات میں ایک ایٹمی ملک ہوتے، اردگرد دشمنوں کی موجودگی اور دنیا میں طاقت کی کشمکش میں اپنے وجود کو برقرار رکھنا ہی بہت بڑی بات ہے چہ جائیکہ ہم کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دے سکیں۔ موجودہ برسر اقتدار اتحاد نے اب تک اپنا غیر جانبدارانہ کردار خوبصورتی سے نبھایا اور مقدور پھر کوشش کی کہ کم از کم مسلمان ممالک آپس کے اختلافات ختم کر کے متحد ہو جائیں،اس میں بڑی حد تک کامیابی اس وقت ہوئی جب ایران اور سعودی عرب کے درمیان غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا اور سفارتی تعلقات بھی بحال ہو گئے،ایسا ہو جانے کے بعد او آئی سی کو بہت محتاط ہونا چاہئے تھا کہ پینٹاگون کا سو سالہ منصوبہ زیر عمل ہے اور اس کے تحت مسلمان ممالک کا اتحاد ان کو گوارا نہیں، میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ اس حوالے سے کوتاہیاں ہوئیں اور مسلمان ملک اپنے اندر ایسے تعلقات پیدا نہ کر سکے جن کے سامنے دشمن کی چالیں ناکام ہو جاتیں۔ فلسطین اور خصوصاً غزہ کا معاملہ سامنے ہے کہ ہم مسلمان ایک قوت و طاقت ہونے کے باوجود نسل کشی روکنے میں ناکام رہے اور آج حالت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے غزہ سے توجہ ہی ہٹا دی ہے اور فلسطینی کھنڈروں اور کھلے آسمان تلے زندگیاں گذارنے پر مجبور۔اب بھی صہیونی ستم برداشت کر رہے ہیں جبکہ اسرائیل کو اب یہ موقع بھی ملا ہے کہ وہ لبنان پر حملہ آور ہے حزب اللہ کے خاتمے کے ساتھ ساتھ لبنان کے علاقے پر بھی قبضہ جماتا چلا جا رہا ہے۔دنیا اس پر خاموش اور امریکہ یہاں بھی مدد گار ہے۔
میرے دِل میں جو خدشات تھے اور ہیں ان کے بھی آثار پیدا ہونا شروع ہو گئے،ڈونلڈ ٹرمپ تو ایک حیرت انگیز شخصیت ہیں جنہوں نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور ایران پر حملے کو اس حد تک لے گئے کہ اب دنیا بھر میں واویلا شروع ہو گیا اور معاشی بحران کا سامنا ہے، بڑے بڑے ترقی یافتہ ملک بھی متاثر ہیں،پاکستان پر اثرات مرتب ہونا تو لازم تھے کہ ملک معاشی استحکام کی جدوجہد میں مصروف ہے اس پر پٹرولیم کے نرخوں کا مسئلہ بن گیا ہے اور بوجھ عام آدمی پرمنتقل ہوتا چلا جا رہا ہے۔
میرے لئے کسی بھی پابندی سے زیادہ میری حقیقی تنظیم پی ایف یو جے کا ضابطہ اخلاق زیادہ مقدم ہے اور یہ ضابطہ اخلاق حالات حاضرہ میں بعض حساس امور کو زیر بحث لانے سے روکتا ہے۔ شکر ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق ترکیہ سمیت تین برادر مسلم ممالک کی درخواست پر فی الحال آپریشن غضب للحق کو عارضی طور پر معطل کر کے اَمن کو ایک اور موقع دینے کی کوشش کی گئی ہے اللہ کرے کہ اسلام کا نام لے کر خونریزی کے مرتکب حضرات کو ختم الرسل حضرت محمدؐ کی ہدایات یاد آ جائیں کہ مسلمان پر مسلمان کا قتل حرام ہے۔
قارئین! جیسا میں نے عرض کیا کہ میرے لئے بہت امور اپنے ضابطہ اخلاق کے حوالے سے مانع ہیں تاہم میں خبردار کرتا ہوں کہ پینٹاگون اِس حربے پر اُتر آیا جس کے تحت بھائی کو بھائی سے لڑانا مقصود ہے، مسلم ممالک کے حالیہ اجلاس، سعودی عرب اور قطر کے محتاط ردعمل سے خدشہ ہے کہ یہ چال کامیاب نہ ہو، ایران سمیت تمام مسلمانوں کو حقائق پر نظر رکھنا ہو گی اور یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کس کا کیا قصور ہے؟تھوڑا لکھے کو مکمل جانیں۔

