ممبئی(بھارتی میڈیا)بالی ووڈ اداکارہ شلپا شیٹی کے شوہر اور بھارتی کاروباری شخصیت راج کندرا نے کہا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ اور خاندان کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتے، جیل میں قیام کے دوران شلپا شیٹی سے طلاق کی افواہ نے انہیں شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا تھا اور ایک موقع پر انہیں اپنی زندگی ختم کرنے کے خیالات بھی آئے۔
راج کندرا نے حالیہ انٹرویو میں 2021ء کے دوران پیش آنے والے ایک تکلیف دہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں قید تھے تو انہیں میڈیا کے ذریعے یہ خبر ملی کہ شلپا شیٹی انہیں چھوڑ رہی ہیں اور دونوں کے درمیان طلاق ہونے والی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ خبر محض افواہ تھی، تاہم اس خبر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا اور وہ پوری رات سو نہیں سکے۔ راج کندرا کے مطابق اس وقت انہیں اپنی زندگی بے معنی محسوس ہونے لگی تھی کیونکہ ان کیلئے اہلیہ اور خاندان سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
راج کندرا نے اعتراف کیا کہ اس شدید ذہنی دباؤ کے دوران انہیں اپنی زندگی ختم کرنے کے خیالات بھی آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شلپا شیٹی انہیں چھوڑ دیتیں تو وہ اس صدمے کو برداشت نہیں کرپاتے۔
انہوں نے بتایا کہ اگلے روز شلپا شیٹی سے بات ہونے کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی۔ اداکارہ نے طلاق سے متعلق افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے ان پر اعتماد کا اظہار کیا، جس سے انہیں حوصلہ ملا اور انہوں نے اس مشکل وقت کا سامنا کیا۔
راج کندرا نے اپنے جیل کے تجربے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ آرتھر روڈ جیل میں گزارے گئے 63 دن ان کی زندگی کے انتہائی مشکل دن تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ اگلی صبح دیکھ پائیں گے یا نہیں۔واضح رہے کہ راج کندرا اور شلپا شیٹی نے 2009ء میں شادی کی تھی۔ ان کے دو بچے ہیں، جن میں بیٹا ویان اور بیٹی سمیشا شامل ہیں۔
راج کندرا کو ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے 19 جولائی 2021ء کو مبینہ طور پر فحش فلمیں بنانے اور انہیں موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے شائع کرنے کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے اس وقت انہیں کیس کا مبینہ کلیدی ملزم قرار دیا تھا۔
ممبئی کی عدالت نے ستمبر 2021ء میں راج کندرا کو 50 ہزار بھارتی روپے کے ضمانتی مچلکے پر ضمانت دی تھی اور وہ تقریباً دو ماہ حراست میں رہنے کے بعد جیل سے باہر آئے تھے۔راج کندرا نے بعد ازاں اپنی زندگی کے جیل کے تجربے پر مبنی فلم ’UT69‘ میں اداکاری بھی کی، جس کے ذریعے انہوں نے اپنے جیل کے تجربات کو پردۂ سیمیں پر پیش کیا۔

