میامی: فیفا کے متنازع فیصلے پر بیلجیم میں ردعمل، ٹرمپ کی مداخلت کی خبروں پر بحث

میامی/برسلز ( بین الاقوامی میڈیا)امریکا اور بیلجیم کے درمیان فٹ بال ورلڈ کپ کے اہم میچ سے قبل امریکی کھلاڑی فولارن بیلاگن کی معطل پابندی بحال کیے جانے کے معاملے پر بیلجیم میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق فیفا نے امریکی اسٹرائیکر فولارن بیلاگن پر ریڈ کارڈ کے باعث عائد پابندی معطل کر دی، جس کے بعد وہ بیلجیم کے خلاف میچ کھیلنے کے اہل قرار پائے۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی درخواست کے بعد کیا گیا، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

بیلجیئن عوام نے اس اقدام کو کھیل کے اصولوں اور انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر پابندیاں ختم کی جانے لگیں تو فٹ بال کے قوانین کی ساکھ متاثر ہوگی۔

بیلجیم کے نائب وزیرِاعظم میکسیم پریوو نے بھی معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی کسی فون کال کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا ہے تو یہ کھیل کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہوگا۔

دوسری جانب بیلجیم میں امریکا کے سفیر بل وائٹ نے صدر ٹرمپ کی مداخلت کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے صرف فیصلہ سامنے آنے کے بعد فیفا کا شکریہ ادا کیا تھا۔

اس تنازع کے باوجود بیلجیئن عوام نے اپنی قومی ٹیم “ریڈ ڈیولز” سے اپیل کی ہے کہ وہ ان حالات سے متاثر ہوئے بغیر میدان میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کرے۔