نوناؤٹ: ہوپ بے مائن منصوبے پر تعمیراتی کام کا آغاز

نوناؤٹ(نمائندہ خصوصی)وفاقی حکومت نے شمالی علاقہ نوناؤٹ میں ہوپ بے مائن منصوبے پر تعمیراتی کام کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔منعقدہ تقریب میں وزیر برائے توانائی و قدرتی وسائل ٹم ہوگسن نے شرکت کی اور منصوبے کے آغاز کو شمالی کینیڈا کیلئے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

حکومت کے مطابق کان کنی کمپنی ایگنیکو ایگل مائنز لمیٹڈ نے اس منصوبے پر 2 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی منظوری دی ہے، جس سے سالانہ برآمدات میں تقریباً 2.6 ارب ڈالر اضافہ متوقع ہے جبکہ تقریباً 2 ہزار نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔

منصوبے سے مقامی قبائلی اداروں اور شراکت داروں، بالخصوص کِٹیکمیوٹ انوئٹ ایسوسی ایشن کو بھی معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔حکومت نے شمالی علاقوں میں توانائی کے شعبے کی بہتری کیلئےبھی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جہاں متعدد کمیونٹیز اب بھی ڈیزل پر انحصار کرتی ہیں۔

اس منصوبے کے تحت 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی وفاقی سرمایہ کاری سے ہوپ بے ونڈ منصوبہ شروع کیا جائے گا، جسے کِٹیکمیوٹ ٹگلیک لمیٹڈ پارٹنرشپ چلائے گی۔ اس منصوبے میں 4.2 میگاواٹ ہوا سے بجلی اور 4 میگاواٹ بیٹری اسٹوریج شامل ہوگا۔

حکومت کے مطابق اس سے سالانہ 30 لاکھ لیٹر ڈیزل کی بچت اور 8 ہزار ٹن سے زائد کاربن اخراج میں کمی متوقع ہے۔تقریب میں قومی دفاع کے ادارے اور کمپنی کے درمیان ایک نیا تعاون معاہدہ بھی کیا گیا تاکہ شمالی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے اور دفاعی منصوبوں کی بہتری کے لیے معلومات کا تبادلہ کیا جا سکے۔

وزیر دفاع کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس تعاون سے آرکٹک خطے میں دفاعی ضروریات اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔تقریب میں مختلف رہنماؤں نے کہا کہ یہ منصوبہ شمالی کینیڈا میں معاشی ترقی، توانائی خودکفالت، روزگار اور مقامی آبادی کیلئے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

آخر میں حکام نے اس منصوبے کو کینیڈا کی شمالی پالیسی، قدرتی وسائل کے استعمال اور توانائی کی جدید سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

وزیر توانائی و قدرتی وسائل ٹم ہوگسن نے بتایا”کینیڈین عوام 1990 کی دہائی سے ہوپ بے کے ذخائر میں موجود بڑے مواقع پر بات کر رہے ہیں، لیکن اب باتوں کا وقت ختم ہو چکا ہے اور عملی کام کا وقت ہے۔ ہماری حکومت اس منصوبے کے عزائم کا خیرمقدم کرتی ہے اور صاف توانائی، توانائی کے تحفظ اور مسلح افواج کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اس کی حمایت کرتی ہے۔ آرکٹک وہ خطہ ہے جہاں قدرتی وسائل، مقامی قیادت، قومی سلامتی اور معاشی ترقی ایک ساتھ آتے ہیں۔ ان تمام شعبوں میں پیش رفت کے ذریعے ہم کینیڈا کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔”

وزیر قومی دفاع ڈیوڈ جے مک گنٹی کا کہناتھا کہ “شمالی علاقوں میں کینیڈین مسلح افواج کیلئےبنیادی ڈھانچے کی تعمیر صرف دفاعی نہیں بلکہ ایک قومی ترجیح ہے۔ اس کیلئے وژن، منصوبہ بندی اور تجربہ کار اداروں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایگنیکو ایگل مائنز کے ساتھ یہ تعاون ہمیں آرکٹک میں دفاعی ضروریات کے مطابق بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مدد دے گا۔”

رکن پارلیمنٹ لوری آئیڈلوٹ کے مطابق “یہ منصوبہ نوناؤٹ کیلئےایک اہم موقع ہے۔ اس سے ڈیزل پر انحصار کم ہوگا، مقامی روزگار بڑھے گا اور توانائی کے ایسے نظام قائم ہوں گے جنہیں مقامی انوئٹ کمپنیاں چلائیں گی۔ یہ صلاحیت نوناؤٹ کو طویل مدت میں مضبوط کرے گی۔”

کِٹیکمیوٹ کارپوریشن کے صدر ڈیوڈ اوملگوئتوک نے کہا “ٹگلیک انرجی کے ساتھ ہماری شراکت انوئٹ قیادت میں متبادل توانائی کے منصوبوں کو فروغ دے رہی ہے جو ہوپ بے مائن جیسے بڑے منصوبوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اس سے نوجوانوں کے لیے نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔”

ٹگلیک انرجی کے سی ای او لاؤرینٹ اباتییلو کا بیان تھاکہ “ہم کِٹیکمیوٹ کارپوریشن اور قدرتی وسائل کے ادارے کے ساتھ اس منصوبے پر شراکت پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہ منصوبہ شمالی علاقوں میں قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دے رہا ہے اور ایگنیکو ایگل کی کاربن اخراج کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔”

ایگنیکو ایگل مائنز کے چیئرمین شان بوائےڈ کے مطابق “کینیڈا کی حکومت ایسے منصوبوں پر زور دے رہی ہے جو معاشی ترقی، روزگار اور قومی استحکام کو مضبوط کرتے ہیں۔ ہوپ بے منصوبہ آرکٹک کی خودمختاری، وسائل کی ترقی، مقامی کمیونٹیز کی مدد اور طویل مدتی مواقع پیدا کرنے کی ایک بہترین مثال ہے۔”