نیتن یاہو کی اقتدار میں واپسی کی راہ مزید مشکل، اہم اتحادی جماعت نے حمایت سے انکار کردیا

یروشلم (رائٹرز، ٹائمز آف اسرائیل، اناطولیہ نیوز ایجنسی)اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکانات مزید کم ہوگئے، ان کی دیرینہ اتحادی مذہبی جماعت یونائیٹڈ توراہ جوڈازم نے نئے وزیرِاعظم کے انتخاب کے لیے کسی بھی امیدوار کی حمایت کرنے سے انکار کردیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق 7 نشستوں پر مشتمل جماعت کے دونوں دھڑوں نے صدر اسحاق ہرزوگ سے مشاورت کے دوران کسی امیدوار کی سفارش نہیں کی۔ جماعت کے مذہبی رہنماؤں نے بھی اپنے ارکان کو کسی امیدوار کی حمایت نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

جماعت نے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی حکومت کی حمایت کا فیصلہ قدامت پسند مذہبی طلبہ کو لازمی فوجی سروس سے استثنیٰ دینے کے قانون کی منظوری سے مشروط ہوگا۔ یونائیٹڈ توراہ جوڈازم اس قانون کی منظوری نہ ہونے پر نیتن یاہو سے ناراض ہے۔

دوسری جانب عرب جماعت رام کے 8 ارکان نے اپوزیشن رہنما اور یاشار جماعت کے سربراہ گاڈی آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کردیا، جس کے بعد انہیں 56 قانون سازوں کی سفارشات حاصل ہوگئیں، جبکہ نیتن یاہو کے حق میں 46 ارکان نے سفارش کی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق صدر اسحاق ہرزوگ مختلف جماعتوں سے مشاورت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ حکومت بنانے کی ذمہ داری کس رہنما کو سونپی جائے۔ کسی بھی امیدوار کو حکومت بنانے کے لیے 120 رکنی پارلیمان میں کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔