فرانس میں مہنگائی اور اخراجات کیخلاف ملک گیر ہڑتالیں، 70 ہزار اہلکار تعینات

پیرس (اے ایف پی، رائٹرز)فرانس میں مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور سرکاری خدمات میں کٹوتیوں کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک نے شدت اختیار کرلی۔ پانچ بڑی ٹریڈ یونینز اور طلبہ تنظیموں کی اپیل پر ملک بھر میں ہڑتالیں اور مظاہرے کیے گئے، جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 70 ہزار پولیس اہلکار اور سیکیورٹی فورسز تعینات کی گئیں، جبکہ حکام نے 220 سے زائد احتجاجی سرگرمیوں کا امکان ظاہر کیا تھا۔

پیرس، لیون، مارسیلز اور دیگر بڑے شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ حکام نے سرکاری عمارتوں، تجارتی مراکز اور حساس مقامات کی سیکیورٹی سخت کردی تھی۔ انہیں خدشہ تھا کہ پرتشدد عناصر مظاہرین میں شامل ہوکر توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کرسکتے ہیں۔

خبر ایجنسیوں کے مطابق احتجاج کے باعث ٹرینوں، بسوں اور زیر زمین ریل کے نظام میں خلل پڑا۔ پیرس میں 25 میٹرو اسٹیشن بند کیے گئے، جبکہ بعض بسوں اور ٹراموں کے راستے تبدیل کردیے گئے۔

مظاہروں میں شریک افراد نے اجرتوں میں اضافے، کم از کم تنخواہ بڑھانے، عوامی خدمات کے لیے زیادہ وسائل مختص کرنے اور طلبہ کے تعلیمی مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق مظاہروں میں 6 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے، جبکہ ایک بڑی ٹریڈ یونین نے شرکا کی تعداد 16 لاکھ بتائی۔ مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور کم از کم 448 افراد کو گرفتار کیا گیا۔