وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست، جمی کیمل اور جمی فالن کے ٹرمپ پر طنزیہ وار

واشنگٹن (دی گارڈین، رولنگ اسٹون، ایسوسی ایٹڈ پریس)امریکا میں 2026ء کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی بڑی کامیابی اور ریپبلکنز کی شکست کے بعد معروف امریکی کامیڈینز جمی کیمل، جمی فالن، جون اسٹیورٹ اور سیتھ میئرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت کو اپنے طنز و مزاح کا نشانہ بنایا۔

ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرلی، جسے صدر ٹرمپ اور ریپبلکن حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردِعمل قرار دیا جا رہا ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد امریکی ٹی وی کے مشہور مزاحیہ پروگراموں میں میزبانوں نے ٹرمپ کے بیانات، انتخابی مہم اور شکست کی ذمہ داری قبول نہ کرنے کے رویے پر چٹکلے سنائے۔

جمی کیمل نے اپنے پروگرام میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کو ’’بلیو سونامی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ٹرمپ اب سیاسی طور پر ایک کمزور صدر بن چکے ہیں، جن کے لیے آئندہ دو برسوں میں اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد مشکل ہوگا۔ انہوں نے ٹرمپ کے اس بیان کا بھی مذاق اڑایا کہ وہ انتخابی امیدوار نہیں تھے، ورنہ ریپبلکنز بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے۔ کیمل نے کہا کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم اور امیدواروں کی حمایت نے نتائج کو ان کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا بنا دیا۔

جمی فالن نے اپنے پروگرام میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس نے کامیابی کا جشن ٹرمپ کے نئے صدارتی بال روم میں منایا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شکست اتنی بڑی تھی کہ ٹرمپ اگلی صبح اپنے سنہری رنگت والے بستر سے بھی باہر نہیں آنا چاہتے تھے۔ فالن کے مطابق ریپبلکن ارکان کی بڑی تعداد کے کانگریس سے رخصت ہونے کا منظر 6 جنوری کے واقعے کا الٹ دکھائی دے گا۔

دوسری جانب سیتھ میئرز نے ٹرمپ کو یاد دلایا کہ اگرچہ ان کا نام ووٹ کے پرچے پر نہیں تھا، لیکن انتخابی مہم کے دوران انہوں نے تقریباً 30 جلسے کیے اور ہر معاملے کو اپنی ذات سے جوڑے رکھا۔ میئرز نے ڈیموکریٹس کی ٹیکساس، جنوبی کیرولائنا اور آئیووا جیسی روایتی ریپبلکن ریاستوں میں کامیابی کو بھی طنز کا موضوع بنایا۔

امریکی کامیڈینز کے ان تبصروں میں ٹرمپ کی انتخابی حکمتِ عملی، شکست کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے رویے اور ان کے سیاسی مستقبل کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔