امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں 25 ہزار سے زائد ڈرون اور دفاعی نظام فراہم کردیے

واشنگٹن (امریکی محکمہ جنگ، اناطولیہ نیوز ایجنسی)امریکا نے رواں سال مشرقِ وسطیٰ میں اپنی افواج کو 25 ہزار سے زائد بغیر پائلٹ فضائی اور دفاعی نظام فراہم کردیے، جن میں 24 ہزار سے زیادہ ڈرون شکن نظام، 1300 سے زائد حملہ آور ڈرون اور 100 سے زیادہ بغیر پائلٹ بحری اور زیرِ آب گاڑیاں شامل ہیں۔

امریکی محکمہ جنگ کی جانب سے 4 نومبر کو جاری بیان کے مطابق ان نظاموں کی فراہمی پر تقریباً 78 کروڑ 20 لاکھ ڈالر خرچ کیے گئے۔ یہ سامان امریکی سینٹرل کمانڈ کے زیرِ انتظام خطے میں تعینات افواج کو فراہم کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ 1300 سے زائد یک طرفہ حملوں کے لیے تیار کردہ ڈرون دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ 24 ہزار سے زیادہ ڈرون شکن نظام امریکی فوجیوں کو مخالف ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے فراہم کیے گئے ہیں۔

امریکی محکمہ جنگ کے مطابق 100 سے زائد بغیر پائلٹ سطح آب اور زیرِ آب بحری گاڑیاں بھی فراہم کی گئی ہیں، جن سے سمندری نگرانی اور حملہ آور کارروائیوں کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کم لاگت اور تیزی سے تیار ہونے والے خودکار جنگی نظاموں کو امریکی افواج تک پہنچانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔پینٹاگان نے مزید کہا کہ سینٹرل کمانڈ کے بعد بحرالکاہل اور یورپ میں تعینات امریکی افواج کو بھی ایسے خودکار اور بغیر پائلٹ نظام فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔