واشنگٹن: امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں ’نوکنگز‘ کے نام سے مظاہرے

(واشنگٹن ( نمائندہ خصوصی، اے ایف پی، فاکس نیوز) امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں کیخلاف اپنے غصے کا اظہار کر سکیں۔ ان مظاہروں کو ’نوکنگز‘ کے نام سے منظم کیا گیا، جنہیں اعلیٰ ریپبلکن رہنماؤں نے طنزیہ طور پر ’ہیٹ امریکا ریلیاں‘ قرار دیا۔

نیویارک، واشنگٹن، اور مشی گن کے چھوٹے شہروں تک ملک بھر میں 2 ہزار 700 سے زائد احتجاجی مظاہرے ہوئے، اور منتظمین کا کہنا تھا کہ لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ یہ مظاہرے ان پالیسیوں کے خلاف ہیں جنہیں ناقدین ملک کو آمریت کی طرف دھکیلنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔

واشنگٹن کے نیشنل مال کے قریب ہزاروں مظاہرین نے امریکی پرچم اٹھا کر نعرے لگائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ صدر کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں سخت گیر اقدامات بڑھ گئے ہیں، جن میں میڈیا پر حملے، سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات، اور امیگریشن پر وسیع کریک ڈاؤن شامل ہیں۔

مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے جب امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کو تین ہفتے ہو چکے تھے اور ہزاروں وفاقی ملازمین برطرف ہو چکے تھے۔ نیویارک کے ٹائمز اسکوائر، بوسٹن کامن، اور شکاگو کے گرانٹ پارک میں ہزاروں افراد جمع ہوئے، جبکہ لاس اینجلس میں منتظمین نے ایک لاکھ مظاہرین کی آمد کی توقع ظاہر کی۔

69 سالہ ریٹائرڈ خاتون کولین ہوفمین نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں اپنی جمہوریت کے زوال کا منظر دیکھنے کیلئےگھر بیٹھ کر کچھ نہیں کر سکتی۔‘

صدر ٹرمپ نے مظاہروں پر نسبتاً محتاط ردِعمل دیا، تاہم ان کے حامیوں نے بھرپور جوابی بیانات دیے۔ ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے مظاہروں کو ’ہیٹ امریکا ریلی‘ قرار دیا اور انہیں مارکسسٹ، سوشلسٹ، اینٹیفا اور ڈیموکریٹک پارٹی کے ’دہشت گرد ونگ‘ کے ساتھ جوڑا۔

فاکس نیوز کے پروگرام ’سنڈے مارننگ فیوچرز‘ میں انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے ’نوکنگز‘ کے حوالے سے کہا کہ ’وہ کہتے ہیں کہ میں بادشاہ ہوں، میں بادشاہ نہیں ہوں۔‘احتجاج کی قیادت ترقی پسند گروپ انڈیویزیبل پروجیکٹ کر رہا تھا، جس کی شریک بانی لیا گرین برگ نے کہا کہ ’اپنے بادشاہ نہ ہونے کا اعلان کرنا اور پُرامن احتجاج کا حق استعمال کرنا سب سے زیادہ امریکی عمل ہے۔‘

امریکن سول لبرٹیز یونین (اے سی ایل یو) نے مظاہرین کو قانونی اور پرامن ماحول میں رہ کر احتجاج کرنے کی تربیت دی۔ کئی معروف ڈیموکریٹ رہنماؤں، بشمول سینیٹر چک شومر، سینیٹر برنی سینڈرز، اور رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو-کورٹیز نے بھی مظاہروں کی حمایت کی۔

امریکا کے علاوہ لندن، میڈرڈ، مالاگا (اسپین) اور مالمو (سوئیڈن) میں بھی چھوٹے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ امریکی یونیورسٹی کی پروفیسر ڈانا فشر نے کہا کہ ’اس دن کا مقصد وہ تمام لوگ جو ٹرمپ انتظامیہ اور اس کی پالیسیوں سے خوفزدہ ہیں، ان کے درمیان اجتماعی شناخت اور یکجہتی پیدا کرنا ہے۔‘

اپنا تبصرہ لکھیں