وزیراعظم نے کاروباروں کی ترقی کیلئے 1.75 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیاہے:سونیا سدھو

اوٹاوا (نمائندہ خصوصی) کینیڈا کی وفاقی حکومت نے ملکی کاروباری اداروں، نئے کاروباری افراد اور اختراع کاروں کو مالی معاونت فراہم کرنے کیلئے 1.75 ارب ڈالر کے نئے منصوبے کا اعلان کردیا۔

وفاقی وزیر صنعت میلانی جولی نے 23 اکتوبر کو اس منصوبے کا اعلان کیا، جس کا مقصد کینیڈین کمپنیوں کو کاروبار شروع کرنے، وسعت دینے اور عالمی منڈیوں میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے درکار سرمایہ فراہم کرنا ہے۔

برامپٹن ساؤتھ سے رکن پارلیمنٹ سونیا سدھو نے کہا کہ برامپٹن میں باصلاحیت کاروباری افراد، اختراع کار اور تیزی سے ترقی کرنے والے ادارے موجود ہیں جو روزگار کے اچھے مواقع پیدا کرنے اور ملکی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا نیا منصوبہ کینیڈین اختراع کاروں کو اپنے ملک میں کاروبار کی ترقی کیلئے درکار مالی وسائل تک رسائی فراہم کرے گا، جس سے معیشت مضبوط ہوگی اور محنت کشوں اور خاندانوں کیلئے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

سونیا سدھو کا کہنا تھا کہ نئی سرمایہ کاری اور اختراعی نظام کی معاونت کے ذریعے حکومت مستقبل کیلئے زیادہ مضبوط اور مستحکم معیشت کی بنیاد رکھ رہی ہے۔

منصوبے کے تحت ایک ارب ڈالر وینچر اینڈ گروتھ کیپیٹل کیٹالسٹ انیشی ایٹو جبکہ 750 ملین ڈالر ’’بیکنگ دی بلڈرز: کینیڈا کی ابتدائی اور ترقی کے مراحل کی سرمایہ کاری حکمت عملی‘‘ کے تحت مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کا انتظام بینک ڈیولپمنٹ آف کینیڈا کرے گا۔

وفاقی حکومت کے مطابق ان اقدامات سے نجی شعبے سے کم از کم 3.8 ارب ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری متوقع ہے، جس کے نتیجے میں کینیڈین کمپنیوں کیلئے مجموعی طور پر 5.5 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری دستیاب ہوگی۔

اس منصوبے میں سرمایہ کاری کے فنڈز، طبی علوم میں جدت، نئے سرمایہ کاری منتظمین اور کاروبار کے ابتدائی و ترقی کے مراحل میں موجود کمپنیوں کیلئے خصوصی مالی معاونت شامل ہے۔

حکومت کے مطابق جدید صنعت سازی، ماحول دوست ٹیکنالوجی، طبی علوم، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کو اس منصوبے سے فائدہ ہوگا۔ انہیں نئی ٹیکنالوجی کو تجارتی سطح پر متعارف کرانے اور عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنے کے مواقع ملیں گے۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کینیڈا کے ہنرمند افراد، دانشورانہ ملکیت اور معاشی ترقی کو ملک کے اندر برقرار رکھنا بھی ہے۔