​خیبر پختونخوا اسمبلی کا مستقبل

​خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے مشترکہ نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار پر تو سوالیہ نشان لگ ہی چکا ہے، لیکن اب خیبر پختونخوا اسمبلی کے مستقبل پر بھی گہرے خدشات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

​خیبر پختونخوا اسمبلی کی بقا کا فیصلہ فی الوقت اراکینِ اسمبلی کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ اگر اراکین کی اکثریت زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے کوئی ایسا دھڑا یا گروپ تشکیل دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے جسے وفاقی حکومت اور مقتدرہ کی آشیرباد حاصل ہو، تو اسمبلی کی بحالی کے راستے کھل سکتے ہیں اور ایک نئی حکومت ان ہی کی مرضی سے وجود میں آ سکتی ہے۔ لیکن اگر اراکین پر “عشقِ عمران” یوں ہی غالب رہا اور وہ اڈیالہ جیل سے کسی غیبی فیصلے کے منتظر رہے، تو شاید یہ انتظار کبھی ختم نہ ہو اور اسی معطلی کی فضا میں موجودہ حکومتیں اپنی مدت پوری کر جائیں۔ یہ اندیشہ بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ خیبر پختونخوا کا سیاسی بحران باقی کے جمہوری سسٹم کو بھی اپنے ساتھ نہ لے ڈوبے۔

​سیاست کے کچھ باریک بین اور سیانے لوگ یہ نکتہ اٹھا رہے ہیں کہ چار ماہ بعد، یعنی مارچ 2027 میں سینٹ کے 48 اراکین ریٹائر ہو رہے ہیں اور چونکہ ان کی جگہ نئے سینیٹرز کا انتخاب قومی و صوبائی اسمبلیوں نے کرنا ہے، اس لیے مارچ سے قبل خیبر پختونخوا اسمبلی کی بحالی ناگزیر ہے۔ لیکن ان داناؤں کی خدمت میں عرض ہے کہ۔ پچھلے سینیٹ انتخابات میں باقی تمام صوبائی اسمبلیوں نے 2 اپریل 2024 کو اپنے اپنے انتخابات مکمل کر لیے تھے، جبکہ خیبر پختونخوا میں مخصوص نشستوں کا تنازع کھڑا ہونے کی وجہ سے سوا سال کی تاخیر کے بعد 21 جولائی 2025 کو الیکشن ممکن ہو سکے۔

​تاہم، اس تاخیر کے دوران پشاور سے اسلام آباد تک سیاسی و قانونی شطرنج پر بہت کچھ بدل چکا تھا۔ ایک متنازع عدالتی فیصلے کے نتیجے میں تحریک انصاف کو ان کی تمام مخصوص نشستوں سے محروم کر دیا گیا، جس سے خیبر پختونخوا کی سیاست میں ایک عجیب و غریب منظر نامہ سامنے آیا۔ اپوزیشن کے پاس اتنی منتخب نشستیں نہیں تھیں، جتنی انہیں عدالتی سخاوت وفیاضی کی طفیل مخصوص نشستیں مل گئیں۔ نتیجتاً، اسمبلی میں اپوزیشن کے اپنے منتخب اراکین کم اور مخصوص نشستوں پر آئے اراکین زیادہ ہو گئے۔ اور پھر انہی اراکین کی عددی طاقت کے بل بوتے پر سینیٹ کی 11 نشستوں میں سے 5 نشستیں اپوزیشن کی جھولی میں جا گریں جبکہ تحریک انصاف محض 6 نشستیں ہی حاصل کر سکی۔

​اب بھی خیبر پختونخوا اسمبلی اسی صورت میں سینیٹرز کا انتخاب کرنے کی پوزیشن میں آئے گی جب وہاں مقتدر حلقوں کی مرضی کی حکومت قائم ہو گی اور ظاہر ہے کہ پھر سینیٹ کے امیدوار بھی انہی کے نامزد کردہ ہوں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے اراکین کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ تاہم باخبر ذرائع یہ اطلاعات دے رہے ہیں کہ فی الوقت دو اہم آپشنز پر کام ہو رہا ہے:

​پہلا آپشن: تحریک انصاف کے اندر ہی ایک بڑا ہم خیال گروپ تشکیل دے کر انہی کی حکومت قائم کر دی جائے، لیکن یہ حکومت براہِ راست اڈیالہ جیل سے ہدایات لینے کی بجائے وزارتِ داخلہ کی پالیسیوں کی پابند ہو گی۔

​دوسرا آپشن: اگر اتنی بڑی تعداد میں اراکین تیار نہ ہوئے تو تحریک انصاف کے مطلوبہ اراکین پر مشتمل ایک مضبوط “فارورڈ بلاک” بنایا جائے گا جو اپوزیشن اراکین کے ساتھ مل کر نئی صوبائی حکومت تشکیل دے گا۔

​ہر دو صورتوں میں، تحریک انصاف کی موجودہ عددی برتری اور یکجہتی کی موجودگی میں خیبر پختونخوا میں سینیٹ کے الیکشن ہونا ناممکن نظر آتے ہیں۔

​حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف ہر گزرتے لمحے کے ساتھ سیاسی و انتظامی طور پر سکڑتی جا رہی ہے، جبکہ وفاق اور اقتدار کے ایوان مضبوط سے مضبوط تر ہو رہے ہیں۔ وقت اور نامساعد حالات نے پی ٹی آئی کو دفاعی سٹیج پر لا کھڑا کیا ہے۔ بظاہر اب نہ تو کسی سیاسی انقلاب کی توقع کی جا سکتی ہے اور نہ ہی تحریک انصاف کے پاس کوئی موثر گراس روٹ احتجاج کرنے کی رمق باقی بچی ہے۔ سیاسی تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ جب اقتدار کی ڈور ہاتھ سے چھوٹ جائے اور تنظیم بکھرنے لگے، تو پہلوانوں کو میدانِ جنگ میں باہر کے حریفوں سے نہیں، بلکہ اپنے ہی خیمے کے اندر سے خطرات لاحق ہو جایا کرتے ہیں۔