برطانوی دور کی بیوروکریسی، خصوصاً انڈین سول سروس ایک ایسی مشینری تھی جو بظاہر سرد، بے رحم اور عوام سے دور تھی، مگر اپنے اندر ایک غیر معمولی نظم، تربیت اور فیصلہ سازی کی قوت رکھتی تھی، انگریز افسر اپنی ذات میں ایک ادارہ ہوتا تھا، ایک ڈپٹی کمشنر ضلع کا ناظم ، قانون کا منتظم ، امن و امان کا ضامن اور ریونیو کا نگران بھی ہوتا تھا، اس کے فیصلے میں یکسانیت ، اعتماد اور سب سے بڑھ کر ایک تسلسل ہوتا تھا، وہ جانتا تھا کہ اسے کس حد تک اختیار حاصل ہے اور اس اختیار کو کیسے استعمال کرنا ہے، اس کے اوپر سیاسی دباؤ نہ ہونے کے برابر تھا، اس لیے اس کی توجہ صرف انتظامی کارکردگی پر مرکوز رہتی تھی، انگریز افسر اپنے کام کو ایک “مشن” کے طور پر لیتا تھا اگرچہ وہ مشن عوامی خدمت نہیں بلکہ حکمرانی کو مضبوط کرنا تھا مگر اس میں پیشہ ورانہ دیانت اور نظم و ضبط کی کمی نہیں تھی۔ اس کے مقابلے میں اس وقت کے ہندوستانی یعنی نیم ولایتی افسران کا کردار ایک حد تک محدود اور پیچیدہ تھا، وہ مکمل طور پر بااختیار تھے نہ ہی مکمل بے اختیار، ان کے اندر ایک عجیب دوہرا پن پایا جاتا تھا ایک طرف وہ انگریز حکمرانوں کے وفادار تھے تو دوسری طرف اپنے سماجی ماخذ سے جڑے ہوئے بھی، ہندوستانی ہونے کے ناطے یہ افسر عوام کے قریب تو تھے، مگر وہ بھی ایک حد کے بعد اپنے آپ کو ایک الگ طبقہ سمجھنے لگتے تھے ان کے اندر ایک احساسِ برتری پیدا ہو جاتا تھا جو شاید اس نوآبادیاتی نظام کا فطری نتیجہ تھا جہاں طاقت کا سرچشمہ اوپر سے نیچے آتا تھا اور ہر سطح پر اس کا عکس نظر آتا تھا۔تقسیم سے قبل کے انتظامی منظرنامے کا آج کے پنجاب اور پاکستان کی بیوروکریسی کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو بڑی لچسپ مگر قدرے افسوسناک تصویر سامنے آتی ہے، بظاہر ہم ایک آزاد ریاست کے شہری ہیں، جہاں بیوروکریسی کو عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے، مگر عملی طور پر نہ وہ اختیار باقی رہا ہے جو برطانوی دور میں تھا، نہ وہ نظم و ضبط اور نہ ہی وہ ادارہ جاتی تسلسل، آج کا افسر ایک مختلف قسم کے دباؤ کا شکار ہے، ا سے سیاسی ، سماجی اور میڈیا کے دباؤ اور بعض اوقات اندرونی ادارہ جاتی کمزوریوں کے دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور اپنی افسری کو بھی برقرار رکھنا ہوتا ہے۔
بیوروکریسی کا یہ تجزیہ پرکاش لعل ٹنڈن کی کتاب “،پنجابی صدی” کے مطالعہ کے بعد سامنے آتا ہے،انکی کتاب محض انکی سوانح عمری نہیں بلکہ برصغیر کے انتظامی، سماجی اور نفسیاتی ڈھانچے کی ایک تصویر ہے،وہ عہد جس میں بیوروکریسی ریاست کی اصل طاقت تھی اور جس کے کندھوں پر نظم و نسق، قانون کی عملداری اور حکمرانی کا پورا بوجھ تھا، ٹنڈن نے جس باریک بینی سے انگریز اور دیسی افسروں کے کردار کو بیان کیا ہے، وہ ہمیں آج کے حالات کو سمجھنے کا بھی ایک مضبوط حوالہ فراہم کرتا ہے۔
ٹنڈن کے دور کا افسر اگرچہ عوام سے دور تھا، مگر اس کی رٹ مضبوط تھی، آج کا افسر عوام کے قریب ضرور ہے، اس کے دفاتر کے دروازے کھلے بھی ہیں اور بند بھی ، وہ سوشل میڈیا پر بھی موجود ہے، مگر اس کی عملداری کمزور پڑتی جا رہی ہے، وہ فیصلہ کرنے سے پہلے کئی بار سوچتا ہے، نہ صرف اس لیے کہ قانون کیا کہتا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ سیاسی ردعمل کیا ہوگا، میڈیا کیا لکھے گا، اور کل اس کا تبادلہ کہاں ہو جائے گا، یہ وہ غیر یقینی صورتحال ہے جس نے بیوروکریسی کے اندر سے اعتماد اور تسلسل کو کمزور کر دیا ہے۔
برطانوی دور میں ایک افسر کی تعیناتی ایک سوچے سمجھے کیریئر پلان کا حصہ ہوتی تھی، اسے مختلف عہدوں پر اس طرح تعینات کیا جاتا تھا کہ وہ بتدریج سیکھتا جائے، پختہ ہوتا جائے اور ایک مکمل منتظم بن کر ابھرے، آج کے پنجاب میں اس کے برعکس بار بار تبادلے ایک معمول بن چکے ہیں، ایک افسر بمشکل کسی عہدے کی باریکیوں کو سمجھتا ہی ہے کہ کہیں اور بھیج دیا جاتا ہے ، اس سے نہ صرف اس کی اپنی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ ادارے بھی عدم استحکام کا شکار رہتے ہیں، ٹنڈن کے بیان کردہ نظام میں”تسلسل”ایک بنیادی خوبی تھی، جبکہ آج کے نظام میں “غیر یقینی” سب سے بڑی کمزوری بن چکی ہے۔ایک اور اہم فرق احتساب اور نظم و ضبط کا ہے، برطانوی دور میں عوامی احتساب تو نہیں تھا مگر ادارہ جاتی نظم بہت سخت تھا، ایک افسر اپنے اعلیٰ افسران کے سامنے جوابدہ ہوتا تھا اور اس کی کارکردگی کو سنجیدگی سے جانچا جاتا تھا، آج کے دور میں بظاہر احتساب کے کئی ادارے موجود ہیں، مگر ان کی ساکھ اور مؤثرپن اکثر سوالیہ نشان بن جاتا ہے، نتیجتاً نہ تو ایک اچھے افسر کو وہ اعتماد ملتا ہے جو اسے چاہیےاور نہ ہی ایک کمزور افسر کو وہ سزا ملتی ہے جو نظام کو درست رکھنے کیلئے ضروری ہے۔
ٹنڈن کی کتاب سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ بیوروکریسی ایک”سروس” تھی ایک ایسی سروس جس میں شامل ہونا ایک اعزاز سمجھا جاتا تھا اور جس کے ساتھ ایک خاص وقار جڑا ہوا تھا، آج بھی یہ وقار کسی حد تک موجود ہے مگر اس کی نوعیت بدل چکی ہے، اب یہ زیادہ تر مراعات، طاقت اور سماجی حیثیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے، جبکہ سروس کا جذبہ نسبتاً کمزور پڑتا جا رہا ہے، یہ تبدیلی محض افراد کی نہیں بلکہ پورے نظام کی عکاسی کرتی ہے،اگر گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو اصل مسئلہ اختیار اور جوابدہی کے توازن کا ہے، برطانوی دور میں اختیار زیادہ تھا اور جوابدہی محدود، مگر نظام پھر بھی چل رہا تھا کیونکہ اس میں نظم اور تسلسل موجود تھا، آج کے دور میں اختیار مکمل نہ جوابدہی مؤثر، جس کی وجہ سے بیوروکریسی ایک طرح کے “درمیانی خلا”میں کھڑی نظر آتی ہے، وہ مکمل طور پر آزاد ہے نہ مکمل طور پر جوابدہ اور یہی کیفیت اس کی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہے۔
اس ساری بحث کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ برطانوی دور مثالی تھا ، وہ ایک نوآبادیاتی نظام تھا جس کا بنیادی مقصد عوامی فلاح نہیں بلکہ حکمرانی کو مضبوط کرنا تھا، مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اس نظام میں نظم و ضبط، پیشہ ورانہ تربیت، اور فیصلہ سازی کی صلاحیت ،جیسی خصوصیات کی آج بھی ضرورت ہے، اصل چیلنج یہ ہے کہ ان خوبیوں کو ایک جمہوری، عوام دوست نظام کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کیا جائے۔آج ہمیں ایک ایسی بیوروکریسی کی ضرورت ہے جو نہ صرف عوام کے قریب ہو بلکہ اپنی رٹ بھی قائم رکھ سکے ، صرف سیاسی نظام کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو بلکہ اپنی پیشہ ورانہ خودمختاری کو بھی برقرار رکھ سکے کیونکہ ادارے افراد سے نہیں اصولوں سے مضبوط ہوتے ہیں اور جب اصول کمزور پڑ جائیں تو مضبوط سے مضبوط نظام بھی آہستہ آہستہ اپنی تاثیر کھو دیتا ہے،اگر ہم واقعی ایک مؤثر، مستحکم اور عوام دوست بیوروکریسی چاہتے ہیں تو ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے حال کی کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا،ضلع،ڈویژن اور محکمہ میں کسی ایک افسر کو اختیارات کا مرکز بنانے کے ساتھ ساتھ جوابدہی کے عمل کو بھی مضبوط کرنا ہو گا۔

