واشنگٹن، اوٹاوا ( رائٹرز، اے پی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کی متعدد مصنوعات پر عائد کیے جانے والے 50 فیصد نئے ٹیرف کو تین دن کیلئے مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے، تاہم معاہدے کی دستاویزات کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے کینیڈا پر 50 فیصد ٹیرف کے نفاذ کو تین دن کیلئے روک دیا ہے، کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ طے پا چکا ہے اور اب صرف دستاویزات کو حتمی شکل دینے کا مرحلہ باقی ہے۔
امریکی صدر نے اس پیش رفت کے ساتھ ہی Keystone XL پائپ لائن کے دوبارہ فعال ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ وہ پائپ لائن ہے جسے سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں ختم کردیا گیا تھا اور ممکن ہے کہ اب اسے دوبارہ زندہ کیا جائے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مجوزہ 50 فیصد ٹیرف تقریباً 20 ارب امریکی ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات کو متاثر کرسکتا ہے۔ ان میں بعض زرعی و غذائی مصنوعات، الکحل، ہاکی کا سامان، تعمیراتی مواد اور دیگر اشیا شامل ہیں۔ نئے ٹیرف کا نفاذ بدھ کی صبح سے ہونا تھا تاہم آخری وقت میں اسے تین روز کیلئے روک دیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق مجوزہ معاہدے میں مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے، اقتصادی تحفظ اور ڈیجیٹل تجارت سمیت مختلف معاملات پر پیش رفت شامل ہے، تاہم بعض اہم تجارتی معاملات پر دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات ابھی جاری ہیں۔
دوسری جانب کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے دفتر نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اہم کام ابھی باقی ہے۔
وزیراعظم کے دفتر کے مطابق کینیڈا گزشتہ کئی ہفتوں سے امریکا کے ساتھ تجارتی معاملات کے حل کیلئے مذاکرات کررہا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ اوٹاوا نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔
رائٹرز کے مطابق مجوزہ معاہدے کے اہم نکات میں امریکی مارکیٹ تک کینیڈین مصنوعات کی رسائی، گاڑیوں کے شعبے میں ٹیرف سے متعلق شرائط، کینیڈا کی ڈیری اور الکحل مارکیٹ تک امریکی مصنوعات کی رسائی اور ڈیجیٹل تجارت شامل ہیں۔
کینیڈا اور امریکا کے درمیان تازہ تجارتی تنازع کے باعث کینیڈین کاروباری حلقوں میں تشویش پائی جاتی تھی۔ نئے 50 فیصد ٹیرف سے متعدد شعبوں کے کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا، تاہم تین روز کی مہلت سے دونوں حکومتوں کو مذاکرات مکمل کرنے کیلئے مزید وقت مل گیا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے Keystone XL پائپ لائن کو دوبارہ فعال کرنے کا عندیہ بھی مذاکرات کے دوران اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ یہ منصوبہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان توانائی کے شعبے میں ایک بڑا سرحد پار منصوبہ تھا جسے بائیڈن انتظامیہ نے 2021ء میں اہم اجازت نامہ منسوخ ہونے کے بعد روک دیا تھا۔
تین روز کی مہلت کے دوران دونوں ممالک کے حکام مجوزہ تجارتی معاہدے کی دستاویزات کو حتمی شکل دینے اور باقی اختلافات دور کرنے کیلئے مذاکرات جاری رکھیں گے۔

