واشنگٹن (اے پی، امریکی میڈیا) وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا بیان مذاقاً دیا گیا تھا اور اس حوالے سے صدر نے اپنے مشیروں سے کوئی مشاورت نہیں کی۔
امریکی اخبار کے صحافی برائن شوارٹز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے معاملے پر اپنے مشیروں کے ساتھ کوئی ملاقات نہیں کی اور نیویارک میں اپنی تقریر کے دوران یہ بات مذاقاً کہی تھی۔

برائن شوارٹز نے کہا کہ وہ ٹرمپ کی تقریر کے موقع پر خود موجود تھے۔ ان کے مشاہدے کے مطابق ٹرمپ نے یہ بات کہنے کے بعد مسکرا کر ردعمل دیا، تاہم اس کے بعد ایسا محسوس ہوا جیسے انہوں نے اپنے بیان کو درست قرار دینے کی کوشش کی ہو۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے 14 اگست کو نیویارک میں خطاب کے دوران کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے بعد امریکا آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے سکتا ہے۔ ٹرمپ اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ کرچکے ہیں۔
تاہم وائٹ ہاؤس کے سینئر عہدیدار کے مطابق آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے حوالے سے فی الحال کوئی عملی منصوبہ زیر غور نہیں اور صدر ٹرمپ نے اس معاملے پر اپنے مشیروں سے کوئی باضابطہ مشاورت نہیں کی۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک اہم بحری گزرگاہ ہے اور خطے میں جاری امریکا، ایران کشیدگی کے باعث اس کی سلامتی اور جہاز رانی عالمی سطح پر اہمیت اختیار کرچکی ہے۔

