پاکستان نے افغانستان کیلئے اقوامِ متحدہ کے امدادی سامان کی کلیئرنس شروع کر دی

اسلام آباد (نامہ نگار) تقریباً دو ماہ تک سرحد پار کارگو کی نقل و حرکت مکمل طور پر معطل رہنے کے بعد پاکستانی حکومت نے افغانستان کیلئےانسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھجوائے جانے والے سامان کی کلیئرنس شروع کر دی ہے۔ یہ اقدام اکتوبر میں معمول کی تجارت کی بندش کے بعد ٹرانزٹ ٹریڈ کی پہلی مرحلہ وار اور محدود بحالی ہے۔

سرکاری خط کے مطابق چمن اور طورخم بارڈر کراسنگ پوائنٹس کے ذریعے اقوامِ متحدہ کی تین ایجنسیوں کے سامان کی نقل و حرکت شروع کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں 143 کنٹینرز کی کلیئرنس دی جائے گی، جن میں 67 کنٹینرز عالمی ادارہ خوراک (ڈبلیو ایف پی) کی غذائی امداد کے، 74 کنٹینرز یونیسف کے بچوں کے لیے اشیائے ضرورت پر مشتمل، اور 2 کنٹینرز یو این ایف پی اے کے طبی و خاندانی معاونتی سامان کے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ فیصلہ وزارتِ خارجہ کی ہدایات کی روشنی میں پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔ کارگو کی نقل و حرکت تین مراحل میں مکمل کی جائے گی: پہلا مرحلہ خوراک، دوسرا ادویات و طبی آلات، اور تیسرا تعلیمی خدمات سے متعلق اشیا پر مشتمل ہوگا۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹرانزٹ ٹریڈ اور ایف بی آر سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ کنٹینرز کی کلیئرنس اور افغانستان-پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے تحت آگے کی نقل و حرکت کو یقینی بنائیں۔

سرحدی بندش کے دوران چمن اور طورخم پر سیکڑوں گاڑیاں کھڑی رہیں، اور ٹرک ڈرائیورز و کسٹم عملے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام نے واضح کیا کہ یہ محدود بحالی صرف انسانی بنیادوں پر بھیجے جانے والے کارگو تک محدود ہے اور معمول کی تجارت کی مکمل بحالی نہیں ہے۔

مالی سال 2024-25 میں پاکستان نے ٹرانزٹ ٹریڈ کی مد میں ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کی درآمدات ریکارڈ کیں، جن میں مجموعی طور پر 42,959 کنٹینرز شامل تھے۔