پاکستان کی سفارتی چھلانگ: ثالثی اور خطے کی نئی سیاست

گزشتہ چند دنوں سے عالمی میڈیا اور مختلف ذرائع میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال غیر معمولی طور پر تیزی سے بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں ہر روز نئے بیانات، نئی دھمکیاں اور پھر اچانک سفارتی وقفے سامنے آتے ہیں۔

ان بیانات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت اور متضاد موقف نمایاں رہے ہیں، جن میں کبھی ایران کے خلاف سخت اقدامات کی دھمکی دی گئی اور کبھی مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کا اشارہ بھی دیا گیا۔ ان ہی بدلتے بیانات کے درمیان جنگ بندی یا وقفے کی خبریں بھی سامنے آتی رہیں۔

اسی دوران ایک اہم نکتہ جو زیر بحث آیا ہے، وہ پاکستان کا ثالثی کردار ہے۔ مختلف رپورٹس اور دعوؤں کے مطابق پاکستان نے نہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی بلکہ جنگ بندی کیلئے سفارتی رابطوں میں بھی کردار ادا کیا۔

اس حوالے سے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیرکے بارے میں یہ تاثر سامنے آیا ہے کہ انہوں نے عالمی سطح پر رابطے بڑھا کر ایک وقتی جنگ بندی یا”کولنگ آف پیریڈ” کیلئے کردار ادا کیا۔

تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس نوعیت کے دعوے اکثر غیر مصدقہ یا جزوی معلومات پر مبنی ہوتے ہیں، اور حتمی تصویر ہمیشہ باضابطہ سفارتی اعلامیوں سے ہی واضح ہوتی ہے۔

اسی سلسلے میں اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا ذکر بھی سامنے آیا، جہاں فریقین کے وفود کی آمد اور مذاکراتی سلسلہ جا رہی ہے۔

اسی تناظر میں ایران کے معروف تجزیہ کار پروفیسر محمد مرندی نے اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت یہاں موجود ہیں، تاہم امریکا کے حوالے سے اعتماد کا فقدان برقرار ہے۔ ان کے مطابق ایران نے مذاکرات ضرور کیے لیکن انہیں امریکا پر بھروسہ نہیں کیونکہ ماضی میں کیے گئے وعدوں پر عمل نہیں ہوا۔

یہ بیان اس وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتا ہے جس میں ایران اور امریکا کے درمیان گہرا اعتماد کا بحران واضح طور پر نظر آتا ہے چاہے مذاکرات جاری ہی کیوں نہ ہوں۔

اسی دوران خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ دکھائی دیتی ہے:لبنان کے جنوبی علاقوں میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے.تل ابیب میں حکومت مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں جن میں عوام جنگوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں.ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کا شدید بحران موجود ہےاور عالمی طاقتیں مختلف زاویوں سے اس صورتحال پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہیں.

پاکستان کیلئے یہ صورتحال ایک طرف سفارتی موقع بھی ہے اور دوسری طرف ایک بڑا امتحان بھی۔ ماضی میں پاکستان افغانستان امن عمل سمیت مختلف علاقائی مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان واقعی اس سطح پر پہنچ چکا ہے کہ وہ امریکا، ایران اور دیگر بڑی طاقتوں کے درمیان مستقل اور مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکے، یا یہ صرف وقتی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے؟مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ خطہ ایک بار پھر بڑے فیصلوں کے موڑ پر کھڑا ہے۔ جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ کم ہوتا جا رہا ہے اور ہر سفارتی کوشش اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

پاکستان کے حوالے سے سامنے آنے والے دعوے اور کردار اگر درست سمت میں آگے بڑھتے ہیں تو یہ اس کی خارجہ پالیسی کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ضروری ہے کہ ہر دعوے اور پیش رفت کو حقیقت، تصدیق اور بین الاقوامی سفارتی اصولوں کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔

کیونکہ عالمی سیاست میں سب سے بڑی طاقت ہمیشہ تصور نہیں بلکہ تصدیق ہوتی ہے۔