پرتگال کے سفیر کی پاکستان۔پرتگال بزنس فورم کے انعقاد کی تجویز

پرتگال پاکستان کیلئےیورپ، افریقہ اور لاطینی امریکہ تک رسائی کا دروازہ بن سکتا ہے: سفیر پاؤلو ڈومنگیز

پاکستان۔پرتگال دوطرفہ تجارت کو 2 ارب ڈالر تک لے جا سکتے ہیں: فہیم الرحمٰن سہگل

پاکستان میں پرتگال کے سفیر، پاؤلو ڈومنگیز نے رواں سال کے آخر میں پرتگال کے وزیر خارجہ کے متوقع دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستان۔پرتگال بزنس فورم کے انعقاد کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فورم کے ذریعے دونوں ممالک کی کمپنیوں، سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں اور سرکاری نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے گا تاکہ کاروباری مواقع کو عملی شراکت داری میں تبدیل کیا جا سکے۔

انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ لاہور کا یہ ان کا پہلا دورہ ہے اور پاکستان میں سفیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد اسلام آباد سے باہر ان کا یہ پہلا سرکاری دورہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ بزنس فورم کو پرتگال کے سفارت خانے، لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، پرتگال کے اعزازی قونصل خانے اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے منعقد کیا جانا چاہیے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے دور کا آغاز ہو سکے۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل نے پرتگال کے سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ پاکستان اور پرتگال کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس موقع پر لاہور چیمبر کے نائب صدر خرم لودھی، سابق سینئر نائب صدر ظفر محمود چوہدری، پرتگال کے اعزازی قونصل افتخار فیروز، ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان علی عمران، سید حسن رضا، عامر علی، محسن بشیر، منیب منوں، ندیم انصاری اور عبدالمجید بھی موجود تھے۔

صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ پاکستان اور پرتگال کے درمیان 1949ء سے خوشگوار سفارتی تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے اہم رکن کی حیثیت سے پرتگال پاکستانی برآمدکنندگان اور سرمایہ کاروں کے لیے اہم مواقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان اور پرتگال کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً 226 ملین ڈالر رہی، جس میں پاکستان کی برآمدات تقریباً 206 ملین ڈالر جبکہ درآمدات تقریباً 20 ملین ڈالر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ تجارتی توازن پاکستان کے حق میں ہے، تاہم دونوں ممالک کو دوطرفہ تجارت کا حجم کم از کم 2 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ پاکستان کی پرتگال کو برآمدات زیادہ تر ٹیکسٹائل، گارمنٹس، زرعی مصنوعات، چمڑے کی مصنوعات اور سرجیکل آلات تک محدود ہیں، جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، فارماسیوٹیکل، انجینئرنگ مصنوعات، پراسیسڈ فوڈ، سپورٹس گڈز، ہوم اپلائنسز، حلال فوڈ اور ویلیو ایڈڈ زرعی مصنوعات میں برآمدات بڑھانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔انہوں نے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان تجارتی وفود کے تبادلوں، بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت اور مشترکہ سرمایہ کاری فورمز کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پرتگال کے سفارت خانے سے درخواست کی کہ وہ لاہور چیمبر کو پرتگال کے چیمبرز آف کامرس، تجارتی تنظیموں اور سرمایہ کاروں سے رابطے میں معاونت فراہم کرے اور تجارت و سرمایہ کاری سے متعلق معلومات کے باقاعدہ تبادلے کو فروغ دے۔

فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دار سفارت کاری کے ذریعے خطے میں امن اور استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کی ایک ذمہ دار اور امن پسند ملک کی حیثیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پرتگال کے سفیر پاؤلو ڈومنگیز نے کہا کہ پاکستان اور پرتگال کے درمیان 76 برس سے زائد عرصے پر محیط سفارتی تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور دوستی پر قائم ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ اقتصادی سفارت کاری کو ان تعلقات کا مرکزی ستون بنایا جائے۔انہوں نے لاہور میں پرتگال کے اعزازی قونصل افتخار فیروز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے اور کاروباری و عوامی روابط کے فروغ میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔سفیر نے کہا کہ عالمی معیشت میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں، سپلائی چین کی نئی ترتیب اور قابل اعتماد تجارتی شراکت داروں کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے پاکستان اور پرتگال کے لیے باہمی تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پرتگال ایک جدید اور برآمدات پر مبنی معیشت ہے، جو دنیا کے 200 سے زائد ممالک کو برآمدات کرتا ہے اور ٹیکسٹائل، جوتے، قابل تجدید توانائی، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، فارماسیوٹیکل، زرعی کاروبار، فوڈ انڈسٹری، سیاحت، آٹو پارٹس، فرنیچر، ڈیزائن اور کارک مصنوعات کے شعبوں میں عالمی شہرت رکھتا ہے۔

پاؤلو ڈومنگیز نے کہا کہ پرتگال سرمایہ کاروں کو سیاسی استحکام، مضبوط قانونی نظام، اعلیٰ تربیت یافتہ افرادی قوت، جدید انفراسٹرکچر اور یورپی یونین کی 450 ملین صارفین پر مشتمل منڈی تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی، سیاسی اور اقتصادی تعلقات کی بدولت پرتگال افریقہ اور لاطینی امریکہ تک رسائی کیلئے بھی ایک اہم پل کی حیثیت رکھتا ہے، خصوصاً پرتگالی زبان بولنے والے ممالک میں۔انہوں نے کہا کہ پرتگال نہ صرف پاکستان کیلئے یورپ کا دروازہ بن سکتا ہے بلکہ یورپ، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں کاروباری توسیع کیلئے ایک سٹریٹجک مرکز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔سفیر نے پاکستان کو بے پناہ معاشی امکانات، نوجوان آبادی، مضبوط صنعتی بنیاد، متحرک کاروباری ماحول اور تیزی سے ترقی کرتی ڈیجیٹل معیشت کا حامل ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ان تمام خصوصیات کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرتگال کی ٹیکنالوجی، جدت اور سرمایہ کاری کو پاکستان کی صنعتی صلاحیت، کاروباری مہارت اور باصلاحیت افرادی قوت کے ساتھ ملا کر بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پرتگال کا سفارت خانہ اقتصادی سفارت کاری کے فروغ کیلئے مکمل طور پر پرعزم ہے اور دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان روابط، سرمایہ کاری کے مواقع اور عملی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔

انہوں نے پرتگالی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو روایتی تصورات سے ہٹ کر ایک پرکشش سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر دیکھیں، جبکہ پاکستانی کاروباری برادری کو دعوت دی کہ وہ پرتگال کو یورپ، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں کاروبار کے فروغ کے لیے ایک مؤثر سٹریٹجک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرے۔