پنجاب بیوروکریسی،کچھ حالیہ تبادے

پنجاب کی بیوروکریسی کے حوالے سے راجہ جہانگیر انور کا نام میرٹ،محنت اور مقصدیت کا عملی نمونہ ہے ، کام ایسا اور اتنا کیا کہ ،جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے،چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کے ساتھ کچھ عرصہ قبل صوبائی افسروں کے حوالے سے گفتگو کے دوران ہم دونوں اس نتیجے پر پہنچے کہ راجہ جہانگیر بہترین صوبائی افسر ہیں، انہیں جہاں بھی لگایا جائے جو بھی ٹاسک دیا جائے وہ اسے اچھے انجام تک پہنجاتے ہیں ،رزلٹ دیتے ہیں،انہیں ایک کے بعد ایک اچھی پوسٹنگ اسی لئے ملی ہے ، یہ انکی محنت کا کرشمہ ہے کہ پنجاب کے اکثر وزراء کی خواہش ہے کہ وہ ان کو اپنے محکمے میں لے جائیں ، مواصلات و تعمیرات ایک ایسا محکمہ ہے جسے کوئی ایوریج افسر نہیں چلا سکتا ،لیفٹیننٹ (ر)سہیل اشرف نے تین سال سے زیادہ عرصے تک اس محکمے میں کمال کیا ،اپنا اور محکمے کا نام روشن کیا، ای ٹینڈرنگ کے ذریعے اسے سیاسی دباو سے آزاد کیا ، مگر سیاسی اور منتخب لوگوں کے عزت و احترام میں بھی کمی نہ آنے دی ،پنجاب میں حقیقی معنوں میں سڑکوں کا جال بچھا دیا ، اچھے انجینئر افسر لگائے ،دن دیکھا نہ رات اپنے کام میں مگن رہے ،اسی لئے وہ وزیر اعلیٰ ،وزیر مواصلات اور چیف سیکرٹری کی آنکھ کا تارا بنے رہے اب انہیں وفاق میں جو پوسٹنگ ملی ہے ،ہر افسر اسکی خواہش کرتا ہے،اسلام آباد کا چیف کمشنر اور سی ڈی اے کا چئیرمین انتہائی اہم اور حساس ذمہ داری ہے ،انکی وفاق میں تقرری کے بعد یہ پنجاب حکومت کیلئے ایک چیلنج تھا کہ یہاں کوئی ان جیسا اچھا افسر ہی تعینات کیا جائے اور اس کیلئےراجہ جہانگیر ہی نظر آئے، پنجاب کے ایک ریٹائرڈ صوبائی افسر زمان وٹو جیسا محنتی اور ویژنری افسر بھی کم کم ہی ملتا ہے ،پنجاب میں ان کی قدر نہیں کی گئی ،اس نے شوگر اور لینڈ مافیا کو للکارا تھا پنجاب کا کسان اور عام آدمی انہیں اب بھی یاد کرتا ہے ،اچھا ہوا وزیر داخلہ انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی وزارت میں لے گئے اور سی ڈی اے کا ممبر اسٹیٹ لگا دیا ،وہ ریونیو کے ماہر ترین افسروں میں شمار ہوتے ہیں۔

میں گزشتہ روز برصغیر کے ایک سول سرونٹ پرکاش لعل ٹنڈن کی کتاب” پنجاب کی صدی 1857 سے 1947 تک”بارے پڑھ رہا تھا ،ان کا تعلق لاہور سے تھا اس لئے انہوں نے پنجاب کی ولایتی اور دیسی بیوروکریسی پر بہت اچھا لکھا ہے، ، ٹنڈن کے مطابق پنجاب میں انگریز بیوروکریٹس کی بہترین کلاس تھی جسکی وجہ سے نو آموز پنجابی بیوروکریسی کا وجود بھی مثالی تھا ، یہ ایک ایسا دور تھا جب افسر کی عزت اس کی کارکردگی اور کردار سے جڑی ہوتی تھی، ، ٹنڈن نے افسروں بارے اور کیا لکھا اس کا کسی روز تٖفصیلی جائزہ لیں گے مگر مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ابھی میں جن افسروں کا ذکر کر رہا ہوں ،ٹنڈن ایسے ہی افسروں کی بات کرتے رہے ہیں۔ آج کا پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم صوبہ ہے، جہاں گورننس کا معیار نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے، ایسے میں بیوروکریسی کا کردار بنیادی اہمیت اختیار کر جاتا ہے،حالیہ دنوں میں پنجاب میں ہونے والے چند اہم تبادلوں نے ایک مثبت بحث کو جنم دیا ہے، ڈی جی ،پی ڈی ایم اے عرفان علی خان کاٹھیا کو کمشنر بہاولپور لگایا گیا ہے ،کمشنر بہاول پور مسرت جبیں کو تبدیل کر کے کمشنر فیصل آباد اور سپیشل سیکرٹری ٹرانسپورٹ طاہر وٹو کو ،ڈی جی پی ڈی ایم اے تعینات کیا گیا ہے،ان دنوں اکثر تقرریاں محض انتظامی تبدیلیاں نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ اگر قیادت سنجیدہ ہو تو بیوروکریسی کے ذریعے نتائج بہتر بنائے جا سکتے ہیں،بیوروکریسی کسی بھی ریاست میں ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، اگر یہ مضبوط، پیشہ ورانہ اور دیانتدار ہو تو پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد ممکن ہوتا ہے اور اگر کمزور یا سیاسی دباؤ کا شکار ہو تو بہترین منصوبے بھی ناکام ہو جاتے ہیں، پنجاب میں حالیہ تقرریاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ چیف سیکرٹری کی سطح پر ایک سوچ اور حکمت عملی موجود ہے جس کے تحت اہل، تجربہ کار اور باصلاحیت افسروں کو اہم عہدوں پر تعینات کیا جا رہا ہے،فیصل آباد بڑا خوش قسمت ڈویژن ہے ،جہاں چند سالوں میں تیسری خاتون کمشنر کو لگایا گیا ہے ،پنجاب کی موجودہ سیکرٹری ماحولیات ،سلوت سعید فیصل آباد کی پہلی خاتون کمشنر تھیں ،جبکہ موجودہ کمشنر لاہور مریم خان ان کے بعد کمشنر فیصل آباد تعینات رہیں،مریم خان کو پنجاب میں تیسرے ڈویژن کی کمشنر بننے کا اعزاز حاصل ہے۔

عرفان علی خان مثبت انداز فکر والے محنتی اور اپ رائٹ افسر ہیں،ان کی کمشنر بہاولپور کے طور پر تعیناتی جنوبی پنجاب کے لئے ایک مثبت اشارہ ہے،بہاولپور تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم ڈویژن ہے، جہاں انتظامی صلاحیت کا براہ راست اثر عوامی زندگی پر پڑتا ہے، ایک متحرک اور فعال کمشنر نہ صرف ریونیو، امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کو بھی مضبوط کرتا ہے، جنوبی پنجاب میں اکثر یہ شکایت رہی ہے کہ یہاں وسائل اور توجہ کی کمی ہے، عرفان علی خان جیسے افسر جو زمینی حقائق کو سمجھتے ہیں انکی تعیناتی سے یہ تاثر ختم ہو گا۔اسی طرح مسرت جبیں کی کمشنر فیصل آباد تعیناتی بھی اچھی قرار دی جا رہی ہے ، ان کے پیش رو راجہ جہانگیر نے یہاں کم وقت میں بہت زیادہ کام کیا جس کا فائدہ یقینی طور پر انہیں ملے گا ، فیصل آباد پاکستان کا ایک بڑا صنعتی شہر ہے، جہاں انتظامی چیلنجز بھی پیچیدہ نوعیت کے ہیں، صنعت، تجارت، شہری مسائل اور دوسرے امور کو مؤثر انداز میں چلانا جان جوکھوں کا کام ہے ،ان کے پاس بہاولپور جیسے ڈویژن کو چلانے کا بہترین تجربہ ہے،جو ان کے کام آئے گا۔

یہ تمام تقرریاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پنجاب میں بیوروکریسی کو دوبارہ ایک پیشہ ورانہ سمت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، ماضی میں یہ شکایات عام تھیں کہ بیوروکریسی سیاسی مداخلت کا شکار ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف افسران کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ اداروں کی ساکھ بھی مجروح ہوتی ہے، مگر حالیہ اقدامات سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ میرٹ، کارکردگی اور تجربے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

تاہم، صرف تقرریاں کافی نہیں ہوتیں، اصل امتحان ان افسران کی کارکردگی میں ہوتا ہے، اگر انہیں کام کرنے کی آزادی دی جائے، سیاسی دباؤ سے دور رکھا جائے اور ان کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے تو یہ تقرریاں واقعی مثبت نتائج دے سکتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ احتساب کا نظام بھی مضبوط ہونا چاہیے تاکہ کوئی بھی افسر اپنی ذمہ داریوں سے غفلت نہ برتے،پنجاب کی بیوروکریسی کیلئےیہ ایک موقع ہے کہ وہ خود کو ایک بار پھر مثالی نظام کے طور پر منوائے، ماضی میں پنجاب کی بیوروکریسی کو بہترین سمجھا جاتا تھااور یہاں کام کرنیوالا افسر وفاق یا کسی بھی دوسرے صوبے میں اچھے نتائج دیتا تھا ، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے، اب اگر دوبارہ میرٹ، تربیت اور کارکردگی پر توجہ دی جائے تو یہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکتی ہے۔