پشاور (نمائندہ خصوصی) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت پیٹرول میں اضافے کو مسترد کرتی ہے اور موٹر سائیکل مالکان کے لیے پیٹرول سبسڈی کے طور پر 22 سو روپے کا اعلان کیا جا رہا ہے، کیونکہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔
سہیل آفریدی نے معاون اطلاعات شفیع جان اور مشیر خزانہ مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وفاقی حکومت عوام پر بوجھ ڈال رہی ہے جبکہ صوبائی حکومت عوام پر اضافی قیمت لگنے کی اجازت نہیں دے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بی آر ٹی کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جائیگا اور حکومت خود خرچہ اٹھائے گی۔ 140 بی آر ٹی بسوں میں سے 10 بسیں صرف خواتین کیلئے مخصوص ہوں گی اور کرایہ کم ہوگا۔ کسانوں کیلئے بھی جلد ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے گا، اور 1 لاکھ 30 ہزار گھرانوں میں سولر سسٹم جون سے پہلے نصب کر دیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے نئی گاڑیوں کی خرید و فروخت پر پابندی اور بین الاقوامی دوروں پر بھی پابندی عائد کی ہے، جبکہ وفاق اپنی شاہ خرچیاں کم نہیں کر رہا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری ہے اور ڈیش بورڈ کے ذریعے معلوم ہوگا کہ کون ذخیرہ اندوزی کر رہا ہے۔ بنوں میں لڑکی پر تشدد کے واقعے کے بعد آئی جی کے پی کو فوری اقدامات کے احکامات دیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے صحت کے شعبے پر توجہ دیتے ہوئے بتایا کہ پشاور میں پانچ ہزار بیڈز کے اسپتال اور کوہاٹ میں ایک ہزار بیڈز کا اسپتال بنایا جا رہا ہے۔
مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستان 15 فیصد اپنا پیٹرول پیدا کرتا ہے، وفاقی حکومت پیٹرول سے 105 روپے فی لیٹر لیوی وصول کر رہی ہے، اور ملک میں مٹی کے تیل کی قیمت 310 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غربت اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے، جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی پیسہ ملک میں نہیں بھیج رہے۔
پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف، مریم نواز، خواجہ آصف کی تقاریر کی ویڈیوز بھی دکھائی گئیں۔

