ڈیفنس کراچی میں جھگڑا، پولیس کی مبینہ سہولت کاری، متاثرہ بہن بھائی پر صلح کیلئے دباؤ

کراچی (نامہ نگار) کراچی کے علاقے ڈیفنس، خیابان بخاری میں بہن بھائی پر تشدد کے واقعے میں پولیس اہلکاروں کی مبینہ سہولت کاری اور متاثرہ خاندان کو صلح پر مجبور کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے دونوں فریقین کو آج اپنے دفتر طلب کرلیاہے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق واقعے کی مکمل ویڈیو حاصل کی جارہی ہے جبکہ جھگڑے کی ویڈیو کا فرانزک بھی کرایا جائے گا۔پولیس ذرائع کے مطابق ویڈیو میں موجود تمام اہلکاروں کا تعلق ضلع کورنگی سے ہے، جبکہ ایس ایس پی کورنگی سے جھگڑے میں ملوث اہلکاروں کی تفصیلات بھی طلب کرلی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق خیابان بخاری میں ایک خاتون نے بہن اور بھائی کو تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ موقع پر موجود باوردی پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر تشدد روکنے کے بجائے خاتون کی حوصلہ افزائی کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شواہد چھپانے کیلئے ایک سادہ لباس شخص نے مبینہ طور پر پولیس اہلکار کی سرکاری بندوق سے کیمرا توڑ دیا۔

متاثرہ خاندان کو مبینہ طور پر دھمکیاں بھی مل رہی ہیں، جس کے باعث انہوں نے فلیٹ سے اپنا سامان دوسری جگہ منتقل کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ خاتون ماضی میں بھی متاثرہ خاندان سے جھگڑتی رہی ہے اور اب انہیں صلح پر مجبور کیا جارہا ہے۔ متاثرہ خاندان نے 27 مارچ کو بھی تھانے میں درخواست دی تھی۔

سی سی ٹی وی ویڈیو کے مطابق آخری جھگڑا 21 اگست کی رات تقریباً سوا 12 بجے ہوا تھا، جس کے بعد پولیس نے مبینہ طور پر تشدد کا شکار دونوں بہن بھائیوں کو ہی گرفتار کرلیا تھا۔ڈی آئی جی ساؤتھ نے واقعے کی مکمل ویڈیو حاصل کرنے اور فرانزک کے بعد ذمہ داروں کے خلاف حقائق کی بنیاد پر کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔