محتسب پنجاب مرغزار سوسائٹی میں مضرِ صحت پانی کا ازخود نوٹس لیں
نام نہاد مرغزار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی، ملتان روڈ لاہور میں گزشتہ دس سالوں سے کثیف زنگ، مٹی اور ریت سے آلودہ اور حفظانِ صحت کے بنیادی اصولوں کے منافی پانی پانچ ٹیوب ویلوں سے سپلائی کیا جا رہا ہے، جس سے ہزاروں شہریوں کیلئےزندگی اور موت کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ آلودہ پانی بالٹی میں دس، بیس گھنٹے پڑا رہنے سے گدلا، مٹی، تیل، باریک ریت اور زنگ آلود ہونے کی وجہ سے سرمئی، براؤن رنگ کا بن جاتا ہے۔ یہ پانی نہ تو پینے کے قابل ہے اور نہ ہی اس پانی سے وضو کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، اس گدلے پانی سے برتن دھونا اور کپڑے دھونا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ بدقسمتی سے یہ بدانتظامی فردِ واحد کی طرف سے من مانے اختیارات کے استعمال اور سول انجینئر نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔
مرغزار کوآپریٹو سوسائٹی اب تک جگاڑ لگانے سے کام لیتی رہی ہے، جس کا نتیجہ اس سوسائٹی کے رہنے والوں کو اب آلودہ پانی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ سوسائٹی ہٰذا کے پانچ پانی کے ٹیوب ویلوں میں سے پی بلاک کا ٹیوب ویل 8 اگست 26 کو خراب ہو گیا، جس کی وجہ سے پی اور آر بلاک کے سینکڑوں گھروں میں پانی کی سپلائی 8 اگست سے مسلسل بند ہے۔ متاثرہ بلاک پی اور آر میں اس وقت پانی کے ٹینکروں سے گدلا، مٹی اور زنگ آلود پانی سپلائی کیا جا رہا ہے، جس سے مکینوں کی ضرورت پوری نہیں ہو رہی ہے کیونکہ یہ پانی پینے کے قابل نہیں اور نہ اس سے وضو کیا جا سکتا ہے۔

پانی کا یہ بحران مرغزار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں گزشتہ دس سال کی بدانتظامی، ذاتی جھوٹی تشہیر، پانی کے زیرِ زمین پائپوں کو کسی ڈرائنگ اور سول انجینئر کی مدد کے بغیر ڈالنے اور متبادل پانی کی سپلائی کیلئے بنیادی اقدامات نہ اٹھانے کے سبب پیدا ہوا ہے، جس کے بنیادی اسباب حسبِ ذیل ہیں.
1۔ پانچ ٹیوب ویل صرف بجلی سے چلتے ہیں۔ بجلی کی عدم فراہمی پر جنریٹر کیلئےمتبادل انتظام نہیں ہے۔
2۔ پانچ ٹیوب ویلوں میں سے اگر کسی ایک ٹیوب ویل یا دو ٹیوب ویلوں کی موٹریں جل جائیں تو اس سوسائٹی کی نااہل مینجمنٹ کمیٹی کے پاس ایک، دو یا تین فالتو بجلی کی موٹریں نہیں ہیں جو فوری طور پر موٹر تبدیل کرکے ٹیوب ویل کو چلا سکیں۔
3۔ 8 اگست کے روز پی بلاک کے ٹیوب ویل کا بور بیٹھ گیا اور یہ ٹیوب ویل ناکارہ ہو گیا تو پی اور آر بلاک میں پانی کی سپلائی کا کوئی متبادل نظام سوسائٹی کے پاس موجود نہیں تھا۔
4۔ سوسائٹی میں زیرِ زمین پانی کی پائپ لائنیں 40 سال پرانی ہیں اور ان پائپ لائنوں کی کوئی سول انجینئر کی تیار کردہ ڈرائنگ سوسائٹی کے پاس نہیں۔ سوسائٹی کا اَن پڑھ پلمبر مختار اور ایک آدھ دوسرا ملازم سول انجینئر کا کام کرتا ہے۔
5۔ زیرِ زمین پائپ لائنوں کو آپس میں نہیں ملایا گیا بلکہ ماضی کے بعض ناعاقبت اندیش اور بدعنوان عہدیداروں نے اپنی رہائش والے علاقے میں اپنے گھر میں پانی کی سپلائی کا پریشر بہتر رکھنے کیلئے زیرِ زمین پائپ لائن کے جوڑ بند کروا دیے، جس سے پی اور آر بلاک میں پانی کی سپلائی8اگست سےآج تک بالکل بند ہے۔
6۔ مرغزار کوآپریٹو سوسائٹی، جس کا اصل نام اسٹیٹ انٹرپرائزز آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی ہے، کا آج تک فرانزک آڈٹ نہیں ہوا، جس کی وجہ سے تمام کلیدی عہدیدار مینجمنٹ کمیٹی اور جنرل ہاؤس کی منظوری لیے بغیر من مانی اور ذاتی مفادات حاصل کرتے رہے ہیں۔

7۔ محکمہ کوآپریٹو سوسائٹیز کی جانب سے آنکھیں بند کر لینے اور کوئی سرپرائز وزٹ نہ کرنے اور سوسائٹی کے عہدیداروں کیخلاف پینے والا پانی آلودہ سپلائی کرنے کیخلاف قانونی کارروائی نہ ہونے کے سبب موجودہ عہدیدار احتساب سے اپنے آپ کو بالاتر سمجھتے ہیں۔
حالیہ انتخابات میں عرفان چیمہ صدر مرغزار سوسائٹی اور سعید خان جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ہیں۔ دونوں پراپرٹی کا کام کرتے ہیں اور سابق صدر شہزاد چیمہ، جو تقریباً 9 سال سوسائٹی ہٰذا کے بے تاج بادشاہ صدر رہے، کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس ضمن میں ڈپٹی ڈائریکٹر سوسائٹیز لاہور جناب اقبال رندھاوا اور اسسٹنٹ رجسٹرار کاشف شریف کو راقم نے تحریری شکایت کی ہے، مگر ابھی تک سوسائٹی ہٰذا میں پانی کی سپلائی بحال نہیں ہوئی۔ سوسائٹی نے آر بلاک میں نیا ٹیوب ویل لگانا شروع کیا ہے لیکن 23 دن گزر جانے کے باوجود یہ ٹیوب ویل ابھی لگ نہیں پایا اور متاثرہ عوام کو سوسائٹی کے نام نہاد ناخداؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
پاکستان کے آئین میں شہریوں کو جو بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں، ان میں ہوا، پانی، بجلی، گیس، زندگی کے بنیادی حقوق میں شامل ہیں اور ان حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ پاکستان کے ایک لارجر پانچ رکنی بینچ نے PLD 2012 SC 01 میں قرار دیا ہے کہ ہر شہری کو انسانی بنیادی حقوق حاصل ہیں اور زندگی گزارنے کے حق میں تمام بنیادی ضروریاتِ زندگی شامل ہیں۔ ہماری صوبائی محتسب پنجاب سے اپیل ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کو، جو انسانی زندگی سے تعلق رکھتا ہے، اس پر فوری نوٹس لیں اور پانی کی سپلائی اور اس کی سپلائی کیلئےمتبادل انتظامات کرنے کیلئےSEOCHS کے عہدیداروں اور کوآپریٹو سوسائٹیز کے مجاز حکام کو ضروری ہدایات جاری کریں۔

