سانحہ پمز: وزیراعظم نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افراد کو معطل، فوجداری کارروائی کا حکم

اسلام آباد(اے پی) وزیراعظم شہباز شریف نے پمز کے نیونیٹل وارڈ میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کی روشنی میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افراد کو فوری معطل کرنے اور ان کے خلاف محکمانہ و فوجداری کارروائی کی ہدایت کردی۔

وزیراعظم کی زیرصدارت پمز واقعے پر اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ اور واقعے کی تقریباً دو منٹ پر محیط سی سی ٹی وی ویڈیو پیش کی گئی۔

معطل کیے جانے والے 8 افراد میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغمہ، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، پمز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالرحمان شامل ہیں۔

وزیراعظم نے ذمہ دار قرار دیے گئے افراد کے خلاف بلاامتیاز محکمانہ اور فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں اور سانحے کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

وزیراعظم نے پمز میں سیکیورٹی پر مامور کمپنی اور اس کے ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف بھی کارروائی کی منظوری دی۔تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کے مطابق پمز میں آتشزدگی اور دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے تفصیلی ایس او پیز اور مناسب تربیت موجود نہیں تھی۔ اسپتال کے 13 ایس او پیز میں صرف دو ذیلی حصوں میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا ذکر موجود تھا۔

رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت وارڈ میں سپروائزری اسٹاف موجود نہیں تھا۔ دو نرسیں، ایک خاتون سیکیورٹی گارڈ اور ایک ہاؤس آفیسر وارڈ میں موجود تھے۔ آگ نے تقریباً دو منٹ میں پورے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ ایمرجنسی سروسز کو واقعے کے تقریباً 6 منٹ بعد اطلاع دی گئی اور ابتدائی امدادی ٹیم تقریباً 15 منٹ بعد پہنچی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ وارڈ میں فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم بھی موجود نہیں تھا۔ تحقیقاتی کمیٹی نے اسپتال میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور بجلی کے نظام سمیت اہم حفاظتی انتظامات کا فوری تکنیکی آڈٹ کرانے کی سفارش کی ہے۔

وزیراعظم نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک نومولود بچے کو بچانے والی نرس رضیہ نورین کیلئےستارۂ خدمت اور 10 لاکھ روپے نقد انعام دینے کی منظوری دی۔ وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون سیکیورٹی گارڈ کو او ایس ڈی بنا کر ان کے کردار کی مزید تحقیقات کی ہدایت بھی کی گئی۔

وزیراعظم نے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے خالی ہونے والے عہدوں پر نئے افسران کی فوری اور بیک وقت تعیناتی کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ پمز کے نیونیٹل وارڈ میں 26 اگست کو لگنے والی آگ کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ معصوم بچوں کی اموات ایک ایسا اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمزدہ ہے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ان کی اور پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں۔ انہوں نے ذمہ داران کو مثالی سزا دلانے کے عزم کا اظہار کیا۔