کورونا تنازع: چین کا امریکی ریاست میزوری سے 53 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ

ووہان (رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس، ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ)چین کی ووہان انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے کورونا وائرس سے متعلق مبینہ جھوٹی معلومات پھیلانے اور چینی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزام میں امریکی ریاست میزوری کے خلاف 53 ارب 50 کروڑ ڈالر ہرجانے کے دعوے کی سماعت شروع کردی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ مقدمہ ووہان کی میونسپل حکومت، ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی اور چینی اکیڈمی آف سائنسز نے دائر کیا ہے۔ اس میں امریکی ریاست میزوری کے علاوہ اس کے موجودہ اٹارنی جنرل کیتھرین ہناوے اور سابق اٹارنی جنرلز ایرک شمٹ اور اینڈریو بیلی کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

چینی مدعی اداروں کا مؤقف ہے کہ میزوری کے حکام نے بدنیتی پر مبنی قانونی کارروائی کی اور کورونا وبا کے آغاز سے متعلق چین کے خلاف جھوٹی، توہین آمیز اور امتیازی معلومات پھیلائیں، جس سے ان کے اداروں اور حکام کی ساکھ متاثر ہوئی اور انہیں مالی نقصان پہنچا۔

چینی فریق نے 356 ارب 44 کروڑ یوآن، یعنی تقریباً 53 ارب 50 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ عوامی معافی، ساکھ کی بحالی اور مبینہ منفی اثرات ختم کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

یہ مقدمہ امریکی ریاست میزوری کی جانب سے اپریل 2020ء میں چین کے صوبے ہوبے، ووہان کی حکومت اور دیگر چینی اداروں کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے جواب میں سامنے آیا۔ میزوری نے کورونا وبا کے ابتدائی دور میں حفاظتی طبی سامان کی مبینہ ذخیرہ اندوزی اور معلومات چھپانے کے الزامات عائد کرتے ہوئے معاشی نقصانات کا ہرجانہ طلب کیا تھا۔

مارچ 2025ء میں امریکی وفاقی عدالت نے چین اور دیگر نامزد فریقوں کی عدم پیشی پر یک طرفہ فیصلہ سناتے ہوئے میزوری کے حق میں تقریباً 24 ارب 49 کروڑ ڈالر ہرجانے کی ڈگری جاری کی تھی۔ چین نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا، جبکہ میزوری حکام نے چینی اثاثوں سے رقم وصول کرنے کی کوششیں شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

قانونی ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مقدمات کی یہ کارروائی ایک دوسرے کے خلاف ہرجانے کے دعووں اور عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔