اسلام آباد (آئی ایس پی آر)ڈی جی آئی ایس پی آر، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا کورٹ مارشل ایک قانونی اور عدالتی عمل ہے اور اس پر قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ شب افغانستان میں کوئی کارروائی نہیں کی اور اگر کبھی حملہ کیا جائے تو اس کا اعلان پہلے کیا جاتا ہے۔
ترجمان پاک فوج نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کبھی سویلینز (عام شہریوں) پر حملہ نہیں کرتا اور ان کا مسئلہ افغان عبوری حکومت ہے، افغان عوام کے خلاف نہیں۔ جنرل چوہدری نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور دہشت گردوں کا پیچھا آخری دم تک کیا جائے گا لیکن اس کیلئے پہلے خود ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مربوط کرنا ہوگا۔
انہوں نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف تصدیق شدہ کارروائی کرے اور بغیر ایسے ٹھوس اقدامات کے مذاکرات ناممکن ہونگے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 4 نومبر سے اب تک دہشت گردی کی کارروائیوں میں 206 دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں اور خودکش حملے کرنے والے زیادہ تر افغان تھے۔

