کیا قیامت قریب تر آ گئی ہے؟

خلیج میں جنگ جاری ہے۔ ٹرمپ کی باتیں بھی نشر ہو رہی ہیں، پاکستان دوست مسلم ممالک کے ساتھ مل کر جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران ابھی تک ڈٹا ہوا ہے جبکہ ٹرمپ کے مطابق اسے اب تک ہتھیار ڈال کر ”غلامی“ کا اعتراف کرلینا چاہیے۔ ایران کے لئے حالات مشکل ضرور ہیں لیکن اس کی مزاحمت اور اسرائیل کو جواب بھی اپنی جگہ موجود ہے، اس وقت اگر غور کیا جائے تو صرف امریکہ اور اسرائیل ہی نہیں، ایران کو ہمسایہ مسلم ممالک کی بھی وہ حمائت حاصل نہیں رہی جو ابتداء میں تھی اس کا اندازہ خلیج تعاون کونسل کے اعلامیے اور نیویارک ٹائمز کی ایک تفصیلی سٹوری سے بھی ہوتا ہے جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ایک اہم ترین مسلم ملک کے کرتا دھرتا کی طرف سے امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ جنگ بندی میں ایران کی میزائل صلاحیت پر بھی بات کرے اور اس کی بیلسٹک میزائل کی تیاری بند کرائے، خبروں کے مطابق امریکہ نے جو پندرہ نکات پاکستان کے توسط سے امریکہ کو دیئے ان میں زیادہ رینج کے بیلسٹک میزائل کی تیاری ترک کرنے کی شرط بھی ہے جبکہ ایران کی ایک پریشانی یہ بھی ہے کہ امریکی اہداف ہمسایہ مسلم ممالک میں موجود ہیں اور ایران کی طرف سے جب ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو ان ممالک کی طرف سے خود مختاری کے حوالے سے احتجاج کیاجاتا ہے۔

یہ ذکر تو جنگ کے حالات اور تسلسل کے حوالے سے کیا گیا ہے لیکن بات کرنا ہے کہ آج کی دنیا میں کئی سالوں سے اغیار کیوں طاقت ور اور مسلمان کمزور ہیں، حتیٰ کہ ملکی دفاع کے لئے بھی انہی سے تعاون لینا پڑتا اور اپنی دولت دینا ہوتی ہے، اس حوالے سے جن حضرات نے قرآن و سنت اور تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا ان کی محنت اور تعلیم سے مستفید ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمارے اہل اور مہربان لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی تمام تر کمزوری ان کے اختلافات ہیں اور یہ قرآن و سنت سے دوری کے سبب ہیں،یہ ایسے کبوتر ہیں جو بلی کو دیکھ کر ہی نہیں اس کے تصور ہی سے آنکھیں بند کرکے بیٹھے ہوئے ہیں،یہ خیال آج متحدہ عرب امارات (UAE) میں ہونے والی طوفانی بارشوں کی خبریں دیکھنے سے آیاہے کہ رواں ہفتے کے دوران متحدہ عرب امارات کے طول و عرض میں جو شدید بارشیں ہوئیں اس سے شدید سیلابی صورت پیدا ہوگئی، گاڑیاں تک پانی میں بہہ گئیں اور گھر ڈوب گئے۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے۔

اس حوالے سے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا، کسی درد مند نے ایک حدیث نبوی کا ذکر کیا تھا، جس کے مطابق ایک وقت آئے گا جب عرب کے صحراؤں میں سبزہ ہوگا اور طوفانی بارشیں ہونے لگیں گی اور یہ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، اس کے علاوہ احادیث ہی میں بتایا گیا تھا کہ ایک دور آئے گا جب ریت سیال سونا اگلے گی، لوگ امیر اور دولتمند ہو جائیں گے، آسمان کو چھوتی عمارتیں بنیں گی اور اس میں مقابلہ ہو گا،اس دور میں سینے ایمان کی دولت سے محروم ہو جائیں گے اور کفار کا غلبہ شروع ہو جائے گا، آج اگر ذرا غور کریں تو ہر بات درست اور ہوتی نظر آ رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں حالیہ سیلابی برسات اور اس سے پہلے بھی ہونے والی بارشیں اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ ساڑھے چودہ سو سال پہلے جو فرمایا گیا وہ نہ صرف درست ہے بلکہ ثابت بھی ہو گیا ہے۔

ذرا غور کیا جائے تو آج دنیا میں مسلمان ممالک بہت امیر ہو چکے، اکثر ممالک کی دولت و امارت کا حساب ہی نہیں،جبکہ آسمان کو چھوتی عمارتیں بھی بن چکیں اور بن رہی ہیں، مقابلہ آرائی بھی ثابت ہو چکی اور یہ بھی ہوا کہ مسلمانوں پر کفار کو ترجیح دی جانے لگی اور اب طوفانی بارشوں کا سلسلہ بھی شروع ہے جبکہ مسلمان ممالک میں اختلاف کوئی نئی بات نہیں، میں انہی سطور میں کئی بار ذکر کر چکا ہوں کہ ہم سب مغرب کی ترقی کی بات کرتے ہیں لیکن خود کچھ کرنے کو تیار نہیں ہیں حالانکہ قرآن حکیم نے جو جو پندرہ سو سال قبل ارشاد فرمایا اوربتا دیا یہ سب اسی کے مطابق ہے کہ قرآن حکیم ہی میں یہ بتایا گیا کہ زمین اور چاند اپنے محور پر گھومتے ہیں اور ان میں آج تک سرمسوفرق نہیں آیا۔ ذرا مزید غور کیا جائے تو یہ بھی بتایا گیا کہ دنیا میں ایک ہی مشرق و مغرب نہیں بلکہ ایک سے زیادہ ہیں، میں نے اپنے محترم رفیع مصطفےٰ کی تحقیقی کتاب ”پوشیدہ کائنات“ کا ذکر کیا تھا جس میں انہوں نے سائنس اور ریاضی کے ساتھ ساتھ تاریخی حوالوں اور سابقہ تحقیق سے ثابت کیا کہ جس ذات باریٰ نے یہ کائنات بنائی، آج کی سائنس اس کے امور، تاحال پوری طرح نہیں جان سکی اور اس کائنات کا ذرہ ذرہ مقررہ حساب سے کام کررہا ہے اور آج کے انسان کی تمام کوشش اور حد ایک خاص مقام تک ختم ہو جاتی ہے۔قرآن ہی کا مطالعہ ہمیں یہ سب بتا اور سمجھا دیتا ہے لیکن ہم نے اس پر غور کرنا مناسب ہی نہیں جانا بلکہ جدید تحقیق کو بُرا ہی کہتے رہے اور تحقیق سے دور رہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ آج ہم اغیار سے بہت پیچھے ہیں۔

حالیہ حالات و واقعات کے بارے میں بھی ہم کو آگاہ کر دیا گیا تھا کہ اگر قرآن و سنت پر عمل نہ کیا تو کیا ہوگا اور وہی ہو رہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق مسلمانوں کی دین سے دوری ہمیں اس مقام تک لے آئے گی جہاں دشمن غالب ہو گا،ایسی ہی ایک تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک دور آئے گا جب مسلمانوں کو پے درپے شکست ہو گی اور قیامت سے پہلے دجال ظاہر ہو گا اس سے پہلے مسلمان مجموعی طور پر تین مرتبہ شکست سے دوچار ہوں گے۔ دجال بیت المقدس میں آکر اپنی دجالت کا مظاہرہ کرے گا۔ ظلم جب حد سے بڑھ جائے تو پھر وہ ختم بھی ہو جاتا ہے چنانچہ خراساں (امکانی طو پر چیچنیا) کی طرف سے وہ جماعت نکلے گی جو کفار کا مقابلہ کرے گی ایسے ہی مہدی علیہ السلام بھی ظاہر ہوں گے اور ان کی قیادت میں دجال کو شکست ہوگی، اسے قتل کر دیا جائے گا اور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان سے اتار اجائے گا وہ تشریف لائیں گے اور ان کے بعد قیامت برپا ہو گی حالات حاضرہ کی روشنی میں غور کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں میں انتشار و اختلاف ختم کرنا اور متحد ہونا ہوگا اگر ایسا نہ ہوا تو پھر دیوار کا لکھا کوئی نہ مٹا سکے گا۔