کینیڈا۔امریکا تجارتی تعلقات پر اونٹاریو لبرل پارلیمانی رہنماؤں کامشترکہ ردعمل

ٹورنٹو (نمائندہ خصوصی)اونٹاریو لبرل پارلیمانی رہنماؤں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کینیڈا کے ساتھ تجارتی مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں۔ ان رہنماؤں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ پیش رفت نہ صرف اونٹاریو بلکہ پورے کینیڈا کی لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ “امریکا کے ساتھ تجارت ہمارے ملک کی معیشت کا اہم ستون ہے، اور اس حوالے سے مذاکرات ایک ٹیم ورک ہوتے ہیں جن کیلئےمربوط منصوبہ بندی، ہم آہنگی اور نظم و ضبط درکار ہوتا ہے۔”

اونٹاریو لبرل ان پارلیمانی رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “ڈونلڈ ٹرمپ اونٹاریو کے خاندانوں کے دوست نہیں ہیں اور ان جیسے شخص کے ساتھ مذاکرات کے دوران بہت احتیاط برتنی ضروری ہے تاکہ انہیں کوئی نیا موقع نہ دیا جائے۔”

ان رہنماؤں کے مطابق موجودہ حالات میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اونٹاریو کے عوام کی ضروریات پر توجہ دی جائے۔بیان میں کہا گیا “ایک ملک کے طور پر ہمیں متحد رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم وزیر اعظم مارک کارنی کی ان کوششوں کی حمایت کرتے ہیں جو امریکا سے آگے دوسرے ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کیلئے کی جا رہی ہیں۔”

اونٹاریو لبرل پارلیمانی رہنماؤں نے وزیرِ اعلیٰ ڈگ فورڈ پر زور دیا کہ وہ روزگار کے تحفظ، مزدوروں کے مفاد اور معیشت کی بحالی پر توجہ دیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ “ہمیں اسٹیلینٹس کے کارکنان برامپٹن میں، ہولساگ کے مزدور لنڈسے میں، کراؤن رائل کے کارکنان ایمہرسٹبرگ میں، اور انٹرفور کے مزدور ایئر فالز میں، ان سب کیلئےایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے۔”

پارلیمانی رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہونگے، تاہم اس وقت سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اونٹاریو کی اسمبلی کے اراکین صحت، تعلیم، رہائش اور روزگار جیسے بنیادی مسائل کے حل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں