اوٹاوا (نمائندہ خصوصی+نامہ نگار) کینیڈا اور پاکستان کے درمیان باہمی تجارتی حجم جنوری سے جولائی 2026ء کے دوران 1 ارب 65 لاکھ 70 ہزار کینیڈین ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 59 کروڑ 89 لاکھ کینیڈین ڈالر کے مقابلے میں 78 فیصد زیادہ ہے۔ تجارتی اضافے کی بنیادی وجہ پاکستان کی جانب سے کینیڈین کینولا کی خریداری دوبارہ شروع کرنا ہے، جس کے نتیجے میں کینیڈا کا پاکستان کے ساتھ تجارتی خسارہ ختم ہوکر 29 کروڑ 57 لاکھ کینیڈین ڈالر کے سرپلس میں تبدیل ہوگیا۔

شماریات کینیڈا کے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران پاکستان کو کینیڈین برآمدات بڑھ کر 68 کروڑ 70 لاکھ کینیڈین ڈالر ہوگئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 20 کروڑ 98 لاکھ ڈالر تھیں۔ اس طرح برآمدات میں 224.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ برآمدات 2018ء سے 2025ء تک کے ہر سال کے مکمل برآمدی حجم سے بھی زیادہ ہیں۔
کینیڈا کی پاکستان کو برآمدات میں کینولا کے بیج نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ جنوری سے جولائی 2026ء کے دوران کینولا کی برآمدات 44 کروڑ 40 لاکھ کینیڈین ڈالر رہیں، جو پاکستان کو کینیڈا کی مجموعی برآمدات کا 65.2 فیصد ہیں۔ پاکستان نے 2023ء اور 2024ء میں کینیڈین کینولا کی خریداری نہیں کی تھی، تاہم 3 نومبر 2025ء کو دونوں ممالک کے درمیان اس تجارت کی بحالی پر اتفاق کے بعد خریداری دوبارہ شروع ہوگئی۔

تجارتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان 2022ء سے 2025ء تک ہر سال کینیڈا کے ساتھ تجارتی سرپلس میں رہا۔ 2023ء میں پاکستان کا تجارتی سرپلس 39 کروڑ 50 لاکھ کینیڈین ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔ کینولا کی خریداری بحال ہونے کے بعد 2026ء کے پہلے سات ماہ میں صورت حال تبدیل ہوگئی اور کینیڈا کو پاکستان کے ساتھ 29 کروڑ 57 لاکھ کینیڈین ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل ہوا۔
دوسری جانب کینیڈا کی پاکستان سے درآمدات میں نمایاں کمی نہیں آئی۔ 2025ء میں پاکستان سے کینیڈا کی درآمدات 69 کروڑ 62 لاکھ کینیڈین ڈالر تھیں، جو 2016ء کے 36 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہیں۔ رواں سال جنوری سے جولائی کے دوران پاکستان سے درآمدات 38 کروڑ 50 لاکھ کینیڈین ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ایک فیصد کم ہیں۔

پاکستان سے کینیڈا درآمد کی جانے والی اہم اشیا میں گھریلو استعمال کی ٹیکسٹائل مصنوعات، ملبوسات، چمڑے کی مصنوعات اور چاول شامل ہیں۔ 2025ء میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی سات بڑی اقسام کی مجموعی مالیت 38 کروڑ 46 لاکھ کینیڈین ڈالر رہی، جو پاکستان سے کینیڈا کی کل درآمدات کا تقریباً 55 فیصد بنتی ہے۔
خوراک کی بعض مصنوعات کی تجارت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی چاول کی درآمدات 2024ء میں 2 کروڑ 85 لاکھ کینیڈین ڈالر تک پہنچیں، جبکہ چٹنیوں اور دیگر غذائی مصالحہ جات کی درآمدات 2021ء کے 40 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 2025ء میں ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہوگئیں۔ اس کے برعکس بعض پلاسٹک خام مال کی درآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

کینیڈا کے صوبوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو سسکیچیوان رواں سال کے پہلے سات ماہ میں پاکستان کو برآمدات فراہم کرنے والا سب سے بڑا صوبہ رہا، جس نے کینیڈا کی پاکستان کو مجموعی برآمدات کا تقریباً نصف فراہم کیا۔ تین پریری صوبوں، سسکیچیوان، البرٹا اور مینی ٹوبا، کا مجموعی حصہ 82 فیصد رہا۔ دوسری جانب پاکستان سے کینیڈا آنے والی درآمدات میں اونٹاریو کا حصہ 60 فیصد تھا، جبکہ کیوبک اور برٹش کولمبیا بھی اہم مراکز رہے۔ یہ درآمدی اعداد و شمار سامان کی کسٹم کلیئرنس کے صوبے کی بنیاد پر مرتب کیے جاتے ہیں، اس لیے ضروری نہیں کہ سامان اسی صوبے میں استعمال بھی ہو۔
اشیا کی تجارت کے علاوہ پاکستان کو کینیڈا سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر اور خدمات کی تجارت بھی اہمیت رکھتی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26ء، جو جولائی 2025ء سے جون 2026ء تک جاری رہا، میں کینیڈا سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر ریکارڈ 79 کروڑ 84 لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے کینیڈا کو فراہم کی جانے والی خدمات کی برآمدات بھی 2016ء کے مقابلے میں تقریباً سات گنا بڑھ چکی ہیں۔ مزید برآں، 2026ء کے وسط میں کینیڈا سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے بہاؤ میں اضافہ ہوا اور جون سے اگست کے تین ماہ کے دوران اس کی مالیت 12 کروڑ 26 لاکھ امریکی ڈالر رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق کینولا کی تجارت کی بحالی نے دونوں ممالک کے تجارتی توازن میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے، جبکہ پاکستانی ٹیکسٹائل، ملبوسات، چمڑے کی مصنوعات، خوراک، خدمات اور کینیڈا سے آنے والی ترسیلاتِ زر دوطرفہ اقتصادی تعلقات کے اہم شعبے ہیں۔

