ٹورنٹو (میاں حبیب اللہ سے) صوبائی وزیر صنعت، تجارت و سرمایہ کاری پنجاب چوہدری شافع حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں، کینیڈا میں پاکستانی مصنوعات کی بڑی مارکیٹ موجود ہے، پاکستان سے ٹیکسٹائل اور باسمتی چاول کی برآمدات میں اضافے کیلئے کینیڈین حکومت سے بات چیت کی جارہی ہے جبکہ آم، کینو، مالٹے، مصالحہ جات اور دیگر غذائی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے امکانات بھی موجود ہیں۔
سینئر صحافی و کالم نگار میاں حبیب اللہ کو کینیڈا کے دورے کے دوران خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے چوہدری شافع حسین نے کہا کہ کینیڈا میں پاکستانی کمیونٹی تقریباً 3 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جو گزشتہ 40، 50 برس سے یہاں مختلف کاروبار کررہی ہے اور دن رات محنت کرکے کامیاب ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں مقیم پاکستانی ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی جانب سے پاکستان میں موجود خاندانوں اور رشتہ داروں کو بھیجی جانے والی رقوم سے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

چوہدری شافع حسین نے کہا کہ کینیڈا میں پاکستانی کمیونٹی نے جس طرح انہیں عزت دی وہ قابلِ تحسین ہے، پاکستانیوں نے یہاں مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اپنی محنت سے نمایاں مقام بنایا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بطور وزیر تجارت، سرمایہ کاری اور کامرس ان کا کینیڈا کا دورہ کئی ماہ پہلے طے ہوا تھا اور اس کا مقصد مختلف سرکاری، تجارتی اور صنعتی شخصیات سے ملاقاتیں کرکے باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔ انہوں نے کینولا آئل سے متعلق کینیڈین ادارے کے حکام، زراعت، ڈیری، اے آئی، لیبر، مینوفیکچرنگ اور ٹریڈ سیکٹر سے وابستہ افراد سے ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ کینیڈا کینولا کے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہے جبکہ پنجاب میں بھی کینولا کے حوالے سے تجربات کیے جارہے ہیں۔ کینولا کو کوکنگ آئل اور جانوروں کی خوراک میں استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سے مصالحہ جات، فوڈ پروڈکٹس اور دیگر اشیا کی برآمدات بڑھانے کے امکانات موجود ہیں اور کینیڈا میں پاکستانی مصنوعات کی مارکیٹ کو مزید وسعت دی جاسکتی ہے۔ پاکستان جدید زراعت اور زرعی ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی کام کررہا ہے جبکہ چین کے ساتھ بھی جدید زراعت اور زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون جاری ہے۔
چوہدری شافع حسین نے انٹرویو کے دوران کہا کہ پنجاب حکومت کی نئی صنعتی اسٹیٹ پالیسی کے تحت سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ کینیڈین کمپنیاں یا پاکستان کے کاروباری افراد پنجاب میں صنعت قائم کرنا چاہیں تو انہیں مشینری کی درآمد پر صفر فیصد ڈیوٹی اور 10 سال تک انکم ٹیکس سے متعلق سہولت فراہم کی جارہی ہے جبکہ بزنس فسیلیٹیشن سینٹر کے ذریعے 30 دن کے اندر صنعتوں کو درکار سہولیات اور این او سیز فراہم کرنے کا نظام بنایا گیا ہے۔
انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں سرجیکل، ٹیکسٹائل، جوتوں، ٹائلز اور فارماسیوٹیکل سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ بینک آف پنجاب کے ذریعے قرضہ اسکیم شروع کرنے کا بھی اقدام کیا گیا ہے تاکہ کاروبار شروع کرنے کے خواہشمند افراد فائدہ اٹھاسکیں۔
چوہدری شافع حسین نے کہا کہ کینیڈا کے ساتھ تجارت بڑھانے کیلئے ٹیکسٹائل کے حوالے سے بھی بات چیت کی جارہی ہے اور کینیڈین حکومت سے کہا جائے گا کہ پاکستان سے کینیڈا آنے والی ٹیکسٹائل مصنوعات پر کسی قسم کے اضافی ٹیکس عائد نہ کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ باسمتی چاول پہلے ہی کینیڈا برآمد ہورہے ہیں اور ان کی برآمدات بڑھانے کیلئے بھی بات چیت جاری ہے۔
تعلیم کے شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستانی طلبہ کو کینیڈا بھیجنے کیلئے صرف مجاز یونیورسٹیوں اور مجاز کمپنیوں کے ساتھ کام کیا جانا چاہیے اور طلبہ کی دستاویزات کی مکمل جانچ ضروری ہے تاکہ جعلی دستاویزات سے بچا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کی بعض یونیورسٹیاں تین، تین ماہ کے ایکسچینج پروگرامز کے تحت طلبہ کو کینیڈا بھیج رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت غیر ملکی یونیورسٹیوں کو بھی پنجاب میں لانے کیلئے کام کررہی ہے اور برطانیہ کی یونیورسٹیاں بھی پنجاب آرہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی آف ٹورنٹو کا کوئی سب کیمپس پنجاب میں قائم کرنے کے امکان کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔
اوورسیز پاکستانیوں کے حوالے سے چوہدری شافع حسین نے کہا کہ ان کے چھوٹے بھائی سالک حسین وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ ہیں اور اوورسیز پاکستانیوں کیلئے قومی اسمبلی میں بل منظور کرایا گیا ہے۔ ان کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں کی غیرقانونی طور پر قبضے میں لی گئی جائیدادوں کے معاملات کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی گئی ہیں اور 90 دن کے اندر فیصلے کیے جائیں گے، جبکہ اوورسیز پاکستانی آن لائن بھی اپنا کیس دائر کرسکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کیلئے مفت پی آئی اے سروسز شروع کی گئی ہیں جبکہ بیرونِ ملک جانے والے افراد کو قانونی طریقے سے جانے اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن کے حصول کیلئے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ پنجاب کے ٹیکنیکل کالجز کی پرانی لیبارٹریوں کو اپ گریڈ کرنے اور ہوٹل انڈسٹری پر بھی کام کیا جارہا ہے۔
چوہدری شافع حسین نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو متحد ہوکر بھائی چارے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے، غیبت سے گریز کرنا چاہیے اور جہاں وہ آباد ہیں وہاں پاکستان کا نام روشن کرنا چاہیے۔
کینیڈا میں پاکستانی پھلوں کی طلب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آموں کے سیزن میں پاکستانی آموں کی بہت زیادہ طلب سامنے آئی۔ انہوں نے کہا کہ کارگو کا مسئلہ اس حوالے سے ایک رکاوٹ ہے اور آموں کے سیزن میں خصوصی کارگو طیارے چلائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے مہینوں میں کارگو پروازوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کینیڈا میں پاکستانی آموں کے ساتھ کینو، مالٹے اور دیگر ترش پھلوں کی طلب کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مصنوعات کی برآمدات اور مارکیٹنگ کیلئے یہاں بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے اور اس حوالے سے مناسب مارکیٹ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
چوہدری شافع حسین نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں اور ان کے دورہ کینیڈا کا ایک اہم مقصد انہی مواقع کو تلاش کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

