اوٹاوا (رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس)کینیڈا کے صوبے البرٹا میں فوجی اڈے پر تربیتی مشقوں کے دوران تیزی سے پھیلنے والی آگ نے تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں 4 فوجی ہلاک اور 39 افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے 19 کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔ کینیڈین حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں، جبکہ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ ہفتے، 17 اکتوبر کو البرٹا میں واقع کینیڈین فورسز کے وین رائٹ فوجی اڈے کے تربیتی علاقے میں پیش آیا۔ کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے اتوار کو 4 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے امن کے زمانے میں کینیڈین مسلح افواج کیلئےملکی سرزمین پر پیش آنے والے بدترین سانحات میں سے ایک قرار دیا۔
حکام کے مطابق آگ ہفتے کی سہ پہر تقریباً 4 بجے تربیتی علاقے میں لگی، جہاں فوجی جنگی مشقوں میں مصروف تھے۔ تیز ہواؤں کے باعث آگ نے غیرمعمولی رفتار سے پھیلنا شروع کردیا اور فوجیوں کے لیے محفوظ مقام تک پہنچنا مشکل ہوگیا۔ میجر جنرل ویڈ رٹلینڈ نے صحافیوں کو بتایا کہ ہوا کا رخ اچانک بدلنے سے شعلے تیزی سے تربیتی علاقے کی طرف بڑھے اور فوجیوں کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ان کے مطابق آگ تقریباً ایک کلومیٹر دور تھی، لیکن ہوا کے رخ میں تبدیلی کے بعد محض 36 سیکنڈ میں وہاں تک پہنچ گئی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق فوجی اڈے پر شدید ہواؤں کی رفتار تقریباً 96 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی تھی۔ آگ تربیتی علاقے کی حدود سے نکل کر فوجی اڈے کے باہر قریبی دیہی علاقے تک بھی پھیل گئی، جس کے باعث فوجی اور شہری فائر فائٹرز نے مشترکہ طور پر کارروائی کی۔ حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے امدادی کارکنوں کو انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
کینیڈین فوجی حکام نے ہلاک ہونے والے چار اہلکاروں کی شناخت بھی ظاہر کردی ہے۔ ان میں سارجنٹ مورگن وونگ، جو ایڈمنٹن سے تعلق رکھتے تھے، اور تین سپاہی شان فیرل، ایڈن گولڈنگ اور ہیڈن لائکمارک شامل ہیں۔ شان فیرل کا تعلق پرنس البرٹ، سسکیچیوان، ایڈن گولڈنگ کا نارتھ وینکوور اور ہیڈن لائکمارک کا لینگلے، برٹش کولمبیا سے تھا۔ چاروں اہلکار ایڈمنٹن میں قائم فوجی یونٹ سے وابستہ تھے۔ حکام کے مطابق ہلاک فوجیوں کے اہلِ خانہ کو مطلع کردیا گیا ہے۔
البرٹا کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کے مطابق 39 زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ صحت کے حکام نے بتایا کہ 19 افراد کی حالت تشویش ناک، 8 کی حالت مستحکم جبکہ 12 زخمیوں کو نسبتاً کم سنگین چوٹیں آئی ہیں۔ بعض زخمیوں کو شدید جھلسنے کے باعث طویل عرصے تک علاج کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
زخمیوں کو ایڈمنٹن کے یونیورسٹی آف البرٹا اسپتال اور رائل الیگزینڈرا اسپتال، کیلگری کے فُوتھلز میڈیکل سینٹر اور ریڈ ڈئیر کے علاقائی اسپتال منتقل کیا گیا۔ امدادی کارروائیوں میں 22 زمینی ایمبولینسوں، 6 طیاروں اور 2 ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا، جبکہ پڑوسی صوبے سسکیچیوان سے بھی مدد حاصل کی گئی۔ اسپتالوں میں بڑی تعداد میں زخمیوں کی آمد کے باعث ہنگامی انتظامات فعال کیے گئے تھے۔
وزیرِاعظم مارک کارنی نے ہلاک فوجیوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے وفاقی سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رکھنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی اور شہری امدادی کارکنوں نے رات بھر مشکل حالات میں آگ پر قابو پانے اور متاثرہ افراد کو بچانے کیلئے کام کیا۔
وزیرِ دفاع ڈیوڈ میک گنٹی نے واقعے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈین مسلح افواج، وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور مقامی ادارے امدادی کارروائیوں میں شریک ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کو حالیہ برسوں میں اپنی یادداشت کے دوران پیش آنے والے غیرمعمولی واقعات میں سے ایک قرار دیا۔
کینیڈین فوج اور شاہی کینیڈین پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آگ کس طرح لگی اور آیا تربیتی مشقوں کے دوران حفاظتی اقدامات میں کسی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ بعض ابتدائی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ زندہ گولہ بارود کے استعمال سے متعلق تربیتی سرگرمی کے دوران کوئی گولہ یا اس کا کوئی حصہ گھاس میں آگ لگنے کا سبب بنا، تاہم فوج نے تاحال آگ لگنے کی حتمی وجہ کی تصدیق نہیں کی۔ حکام کے مطابق فی الحال دہشت گردی سے تعلق کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
وین رائٹ فوجی اڈہ کینیڈا کے اہم تربیتی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں فوجیوں کو جنگی کارروائیوں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ اڈہ ایڈمنٹن سے تقریباً 210 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ آگ کے قریبی آبادی تک پہنچنے کے باوجود حکام نے وین رائٹ کے رہائشیوں کے لیے انخلا کا حکم جاری نہیں کیا۔
ہلاکتوں کی تعداد سے متعلق وضاحت: 18 اکتوبر کی تازہ ترین سرکاری تصدیق کے مطابق 4 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ بعض ذرائع ابلاغ نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے 7 ہلاکتوں کی اطلاع بھی دی، تاہم وزیرِاعظم اور فوجی حکام نے اس وقت 4 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

