مہنگائی، بے روزگاری کیخلاف یورپ میں احتجاجی لہر، فرانس، اٹلی اور البانیہ میں جھڑپیں

پیرس، روم، تیرانا (رائٹرز، اے ایف پی، الجزیرہ)یورپ کے متعدد ممالک میں مہنگائی، زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات، کم اجرت، بے روزگاری، تعلیمی مسائل اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شدت آگئی ہے۔ فرانس، اٹلی اور البانیہ میں مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، سرکاری عمارتوں اور کاروباری مراکز کو نقصان پہنچایا گیا، آگ لگانے کے واقعات پیش آئے اور سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا۔ بیلجیئم اور پرتگال سمیت دوسرے یورپی ممالک میں بھی زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور رہائش کے بحران کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔ تاہم مختلف ملکوں میں احتجاج کی وجوہات یکساں نہیں؛ کہیں مہنگائی اور عوامی خدمات کے مسائل نمایاں ہیں تو کہیں تعلیم، بدعنوانی اور روزگار کے مواقع بنیادی مطالبات ہیں۔

“فرانس: لاکھوں افراد سڑکوں پر، تاریخی ٹاؤن ہال نذرِ آتش”
فرانس میں ہفتے، 17 اکتوبر کو ملک گیر مظاہروں کے دوران کئی شہروں میں شدید بدامنی دیکھنے میں آئی۔ فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے مطابق تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد مظاہروں میں شریک ہوئے، جبکہ مزدور تنظیم نے شرکاء کی تعداد 8 لاکھ تک بتائی۔ احتجاج کا آغاز تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی اور ناقص سہولتوں کے خلاف طلبہ کی سرگرمیوں سے ہوا تھا، لیکن بعد میں اس میں مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں، قوتِ خرید میں کمی، عوامی خدمات اور حکومتی اخراجات سے متعلق شکایات بھی شامل ہوگئیں۔

شہر لیموج میں نقاب پوش مظاہرین نے تاریخی ٹاؤن ہال کو آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں عمارت کی چھت گرگئی۔ مارسیلی میں مظاہرین سٹی ہال میں داخل ہوئے اور عمارت کو نقصان پہنچایا، جبکہ لیون میں سیاحتی دفتر کو آگ لگانے کی اطلاع سامنے آئی۔ پیرس میں بھی توڑ پھوڑ، دکانوں میں لوٹ مار اور گاڑیوں کو آگ لگانے کے واقعات پیش آئے۔ بعض مقامات پر مظاہرین نے پولیس پر پتھر اور دیگر اشیا پھینکیں، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس اور دیگر ہجوم منتشر کرنے والے آلات استعمال کیے۔

فرانسیسی وزیرِاعظم سباستیاں لیکورنو نے بتایا کہ مظاہروں کے دوران 1200 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ 150 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ صدر ایمانوئل میکرون نے سرکاری عمارتوں اور عوامی املاک پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔ دوسری جانب مظاہرین نے کہا کہ ان کی بڑی تعداد پُرامن انداز میں اپنے مطالبات پیش کررہی تھی اور تشدد میں ملوث گروہ پورے احتجاج کی نمائندگی نہیں کرتے۔ پولیس کے طریقۂ کار اور مظاہرین کے زخمی ہونے کے واقعات کی تحقیقات کا معاملہ بھی زیرِ بحث ہے۔

فرانس میں احتجاج کے پیچھے تعلیمی مسائل کے علاوہ عوامی خدمات میں کمی اور گھریلو اخراجات کا دباؤ بھی اہم عوامل ہیں۔ طلبہ بہتر تعلیمی سہولتوں اور مزید اساتذہ کا مطالبہ کررہے ہیں، جبکہ دیگر شرکاء نے ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی اور قوتِ خرید میں کمی کے خلاف آواز اٹھائی۔ یہ مظاہرے ایسے وقت ہوئے ہیں جب ملک کو سرکاری قرضوں اور معیشت سے متعلق دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

“اٹلی: میلان میں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، دکانوں میں توڑ پھوڑ”
اٹلی میں زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات، کم اجرت اور بڑے شہروں میں سستی رہائش کی قلت کے خلاف احتجاج نے شدت اختیار کرلی ہے۔ اتوار، 18 اکتوبر کو میلان میں مسلسل دوسرے روز پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جبکہ اس سے ایک روز قبل میلان کے علاوہ بولونیا، بریشیا، برگامو اور تورین میں بھی احتجاج کے دوران بدامنی ہوئی تھی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق میلان کے مرکزی علاقے میں نقاب پوش مظاہرین نے دکانوں کے شیشے توڑے، کوڑا دانوں اور دیگر اشیا کو آگ لگائی اور پولیس پر پتھر پھینکے۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی تیز دھاریں استعمال کیں۔ اتوار کو 60 سے زائد مظاہرین کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا، جبکہ ہفتے کے واقعات میں 28 افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی گئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق میلان میں ہفتے کے روز ہونے والے احتجاج کے دوران کم از کم 4 پولیس اہلکار اور 20 مظاہرین زخمی ہوئے۔ اٹلی کی وزیرِاعظم جورجیا میلونی نے تشدد کی مذمت کی اور پولیس سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ حکومت نے بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عوامی مسائل پر غور کے لیے اجلاس بلانے کا اعلان بھی کیا۔ احتجاج کے پس منظر میں مہنگائی، حقیقی اجرتوں میں جمود اور بڑے شہروں میں مناسب کرائے پر گھر نہ ملنے کے مسائل شامل ہیں۔

“البانیہ: طلبہ کی تحریک حکومت کیخلاف احتجاج میں تبدیل”
البانیہ میں دارالحکومت تیرانا سمیت مختلف شہروں میں طلبہ کے مظاہروں نے حکومت کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ احتجاج میں تعلیمی اخراجات، جامعات کی ناقص سہولتوں، مالی معاونت کی کمی، روزگار کے محدود مواقع اور مبینہ بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھائی جارہی ہے۔ طلبہ کی تحریک اب وزیرِاعظم ایڈی راما سے استعفے کے مطالبے تک پہنچ چکی ہے۔

رائٹرز کے مطابق 17 اکتوبر کو تیرانا میں ہزاروں نوجوان وزارتِ تعلیم کے باہر جمع ہوئے۔ بعض نقاب پوش مظاہرین نے پولیس پر پتھر پھینکے، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس، ہجوم منتشر کرنے والے دستی آلات اور پانی کی تیز دھاریں استعمال کیں۔ اس سے پہلے ہونے والے مظاہروں کے دوران وزارتِ تعلیم کی عمارت اور دو بینکوں میں آگ لگنے، دکانوں کے شیشے توڑے جانے اور پولیس سے جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔

وزیرِاعظم ایڈی راما نے 18 اکتوبر کو استعفے کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک یہ مظاہرے حکومت سے زیادہ البانیہ کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب مظاہرین حکومت سے بدعنوانی کے خلاف اقدامات، تعلیم کے بہتر مواقع اور روزگار کی فراہمی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ احتجاج کے دوران گرفتاریوں کی تعداد سے متعلق مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں، اس لیے مجموعی حراستوں کی حتمی تعداد کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

“بیلجیئم اور پرتگال میں بھی عوامی غصہ”
یورپ میں احتجاج صرف فرانس، اٹلی اور البانیہ تک محدود نہیں رہا۔ بیلجیئم میں طلبہ نے تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور تعلیمی اصلاحات کے خلاف مظاہرے کیے، جبکہ پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں ہزاروں افراد نے مہنگائی، کم اجرت اور رہائش کے بحران کے خلاف مارچ کیا۔ پرتگال میں گھروں کی قیمتوں اور کرایوں میں مسلسل اضافے نے نوجوانوں اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے رہائش کا حصول مشکل بنا دیا ہے۔

لزبن میں مظاہرین نے بہتر رہائشی سہولتوں اور زندگی گزارنے کے اخراجات میں کمی کا مطالبہ کیا۔ بیلجیئم میں احتجاج کا مرکزی محور تعلیم تک رسائی اور تعلیمی اخراجات تھے، جبکہ اٹلی اور فرانس میں معاشی دباؤ کے ساتھ عوامی خدمات اور حکومتی پالیسیوں پر بھی تنقید کی گئی۔

“یورپی حکومتوں کیلئے بڑھتا ہوا چیلنج”
مختلف ممالک میں مظاہروں کی وجوہات الگ ہونے کے باوجود زندگی گزارنے کے اخراجات، تعلیم، رہائش اور روزگار سے متعلق شکایات میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ فرانس میں احتجاج کا دائرہ طلبہ سے آگے بڑھ کر مزدور تنظیموں اور دیگر شہری حلقوں تک پھیلا، اٹلی میں کم اجرت اور رہائش کے مسائل نمایاں رہے، جبکہ البانیہ میں تعلیم اور بدعنوانی کے خلاف تحریک حکومت سے استعفے کے مطالبے میں تبدیل ہوگئی۔

تاہم دستیاب اطلاعات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تمام ممالک میں احتجاج کسی ایک مشترکہ تنظیم یا مرکزی قیادت کے تحت ہورہا ہے۔ مظاہرے الگ الگ مقامی حالات کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں، اگرچہ ان میں عوامی سہولتوں، معاشی مشکلات اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق مشترکہ شکایات دکھائی دیتی ہیں۔
تازہ ترین صورتِ حال: 18 اکتوبر 2026ء تک فرانس میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے، اٹلی میں میلان سمیت مختلف شہروں میں مسلسل دوسرے روز بدامنی اور البانیہ میں وزیرِاعظم کے استعفے کے مطالبے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مختلف ممالک میں مظاہروں کے شرکاء، گرفتاریوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار وقت کے ساتھ تبدیل ہوسکتے ہیں، جبکہ بعض واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔