یمن میں سعودی حملوں کے نتیجے میں 17 افراد کی ہلاکت ہوئی:حوثی ٹی وی المسیرہ

صنعا (رائٹرز) یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے فضائی حملوں میں 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام نشریاتی ادارے المسیرہ نے ہلاکتوں کی اطلاع دی، تاہم سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کی جانب سے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

المسیرہ کے مطابق سعودی حملوں میں یمن کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے کہا گیا تھا کہ تیل کی تنصیبات کے قریب گرنے والے ملبے کے واقعات پر کارروائی کی گئی، تاہم حوثیوں کے تازہ الزامات پر سعودی اتحاد نے براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ ان کی فورسز نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق حملوں میں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے، دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے، نجران کے ہوائی اڈے اور خمیس مشیط کے فضائی اڈے کو ہدف بنایا گیا۔ انہوں نے ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیب، رابغ آئل ریفائنری اور مشرقی مغربی تیل پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

حوثیوں نے رواں ماہ کے آغاز میں فضائی کمپنیوں کو سعودی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کی تنبیہ بھی کی تھی، تاہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو اس انتباہ سے مستثنیٰ قرار دیا تھا۔ سعودی عرب نے الزام عائد کیا تھا کہ حوثیوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم حوثیوں نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

دوسری جانب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے الزام لگایا تھا کہ حوثیوں نے عدن میں ساحلی محافظوں کے مراکز پر 3 بیلسٹک میزائل داغے، جن میں سے 2 ساحلی محافظوں کے ہیڈکوارٹر پر گرے، جبکہ تیسرا میزائل التواہی کے علاقے میں ایک عمارت سے ٹکرایا۔ حوثی ترجمان نے اس کے برعکس دعویٰ کیا کہ ان کی فورسز نے عدن میں النصر کیمپ اور بحری فوجی اڈے پر سعودی حمایت یافتہ فوجی اجتماعات کو نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر سعودی افسران فوجی نقل و حرکت کی نگرانی کر رہے تھے۔

یمن میں جاری لڑائی نے 2022ء میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد اور حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملوں میں بڑی حد تک کمی آ گئی تھی۔ حوثی دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے بڑے حصے پر قابض ہیں، جبکہ سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے۔