وارسا (رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس) یورپ کے تین ممالک پولینڈ، اسپین اور بلغاریہ میں چار مسافر طیاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں ملنے کے بعد سیکیورٹی اداروں میں ہلچل مچ گئی۔ حکام نے طیاروں کی تلاشی لی اور مختلف ہوائی اڈوں پر حفاظتی اقدامات کیے، تاہم کسی طیارے سے دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کی صبح لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے سے وارسا جانے والی پولش ایئرلائنز کی پرواز کو دھماکہ خیز مواد کی اطلاع ملنے پر وارسا کے موڈلن ہوائی اڈے کی جانب موڑ دیا گیا۔ طیارے میں 181 افراد سوار تھے، جنہیں بحفاظت باہر نکال کر آمد کے ہال میں منتقل کیا گیا۔ تلاشی کے دوران کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا اور ہوائی اڈے پر عارضی بندش کے بعد معمول کی سرگرمیاں بحال کردی گئیں۔
دوسری جانب کوپن ہیگن سے وارسا آنے والی اسکینڈینیوین ایئرلائنز کی پرواز کو بھی بم کی دھمکی موصول ہوئی۔ طیارے نے وارسا کے چوپن ہوائی اڈے پر معمول کے مطابق لینڈنگ کی، جہاں سیکیورٹی حکام نے اس کی جانچ پڑتال کی۔ اس دوران ہوائی اڈے پر دیگر پروازوں کا آپریشن جاری رہا۔
اسپین میں مانچسٹر سے آنے والی ریان ایئر کی پرواز کو مرسیا ہوائی اڈے پر بم کی دھمکی کے بعد سیکیورٹی جانچ کا سامنا کرنا پڑا۔ طیارے میں 121 افراد سوار تھے۔ پولیس اور بم ڈسپوزل ٹیموں نے طیارے، مسافروں اور سامان کی تلاشی لی، تاہم کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا اور حکام نے دھمکی کو بے بنیاد قرار دیا۔
ادھر اسرائیل سے بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ پہنچنے والے ایک مسافر طیارے کو بھی ای میل کے ذریعے بم کی دھمکی موصول ہوئی، جس کے بعد انسدادِ دہشت گردی کے اہلکاروں نے طیارے کی تلاشی شروع کردی۔
حکام کے مطابق چاروں واقعات میں کسی جانی نقصان یا دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی۔ تاحال یہ بھی واضح نہیں ہوسکا کہ ان دھمکیوں کا آپس میں کوئی تعلق تھا یا یہ الگ الگ واقعات تھے۔
واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل لندن سے صوفیہ جانے والی وز ایئر کی پرواز کو بھی بم کی دھمکی ملنے پر ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ منتقل کیا گیا تھا۔ ہنگری کے لڑاکا طیارے نے مسافر طیارے کو حفاظتی حصار فراہم کیا تھا۔ بعد ازاں طیارے کی تلاشی میں کوئی مشتبہ چیز نہ ملنے پر اسے صوفیہ جانے کی اجازت دے دی گئی۔

