پشاور (نمائندہ خصوصی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک کیلئے صرف ہم بول رہے ہیں، باقی ہر طرف سناٹا ہے، انتخابی دھاندلی پہلے بھی قبول نہیں کی اور آئندہ بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ ہم تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اگر جواب دیا تو مخالفین کیلئےسنبھالنا مشکل ہوجائیگا۔
مانسہرہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکمران ہمارے خدشات دور کرنے کے بجائے ہماری کردار کشی کر رہے ہیں۔ ملک کے استحکام کیلئے جمعیت علمائے اسلام کا کردار ضروری ہے۔ یہ وطن ہمارا ہے اور اس کی محبت ہمارے خون میں شامل ہے، کسی غیر کو ریاست پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
دوسری جانب پشاور میں جے یو آئی کے سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے وزیر دفاع خواجہ آصف سے متعلق اپنے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف محترم اور بھائی ہیں، میں نے صرف تھوڑی سی گدگدی کی تھی، لیکن انہیں اگلے روز غصہ آگیا۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ دیر سے یاد آنے والا مکا خود کو مارنا چاہیے۔ ہم تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، لیکن اگر ہم نے جواب دیا تو آپ کے لیے سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو کردار کشی اور تشہیری مہم کے ذریعے ہوا دینے کے بجائے مکالمے سے حل کیا جانا چاہیے۔ گالیاں دینا اور جعلی ویڈیوز بنانا سوالات کا جواب نہیں۔ حکومت کو ایک شہری کی حیثیت سے ان کے سوالات اور خدشات کا جواب دینا ہوگا۔
انہوں نے قبائلی علاقوں کے معدنی وسائل سے متعلق معاہدے عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں غیر ملکی سرمایہ کاری پر اعتراض نہیں، تاہم یہ واضح ہونا چاہیے کہ ان معاہدوں میں مقامی آبادی، ملکی اداروں اور غیر ملکی کمپنیوں کا حصہ کتنا ہوگا۔
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ قبائلی عوام کو پہلے سیاسی حقوق سے محروم رکھا گیا اور اب انہیں معاشی حقوق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ قیمتی معدنی ذخائر کے حوالے سے ہونے والے معاہدوں میں شفافیت ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت علمائے اسلام تشدد کے بجائے آئین، دلیل اور سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ گزشتہ 25 سال سے مذہبی حلقوں کو آئین اور وطن کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے ہمیں اشتعال دلانے کے بجائے اصولوں کے مطابق سیاست کرنے دی جائے۔

