ہیمپشائر میں ہالووین پارٹی پر چاقوؤں سے حملہ، 2 نوجوان گرفتار، ایک زخمی کی حالت تشویشناک

ہیمپشائر (برطانوی ذرائع ابلاغ)برطانیہ کی کاؤنٹی ہیمپشائر کے علاقے چینڈلرز فورڈ میں ہالووین پارٹی کے دوران پانچ لڑکوں کو چاقو کے وار کرکے زخمی کرنے کے واقعے میں پولیس نے 16 اور 17 سال کے دو نوجوانوں کو اقدامِ قتل کے شبہے میں گرفتار کرلیا ہے۔ دونوں کا تعلق ساؤتھمپٹن سے بتایا گیا ہے۔

ہیمپشائر پولیس کے مطابق واقعہ 31 اکتوبر کی رات ساڑھے 10 بجے کے بعد پارک روڈ پر واقع ایک مکان میں پیش آیا، جہاں ہالووین کی تقریب جاری تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ غیر مدعو افراد مکان میں داخل ہوئے اور اس کے بعد وہاں موجود نوجوانوں پر چاقوؤں سے حملہ کیا۔

زخمی ہونے والے پانچوں لڑکوں کی عمریں 16 اور 17 سال کے درمیان ہیں۔ ان میں سے دو تاحال اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جبکہ 17 سالہ ایک لڑکے کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ باقی تین نوجوانوں کو طبی امداد کے بعد اسپتال سے فارغ کردیا گیا۔

پولیس نے گرفتار کیے گئے دونوں نوجوانوں کو اقدامِ قتل کے شبہے میں حراست میں لیا ہے۔ ان کی عمریں بالترتیب 16 اور 17 سال ہیں اور دونوں ساؤتھمپٹن کے رہائشی ہیں۔

مقامی تعلیمی ادارے بارٹن پیوریول کالج نے بتایا ہے کہ زخمیوں میں سے دو کے اس کالج کے طالب علم ہونے کا امکان ہے۔ کالج انتظامیہ نے متاثرہ نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کو مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

زخمی نوجوانوں کے دوست کریم احمد نے واقعے کی خبر ملنے پر شدید صدمے کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمی ہونے والے لڑکوں میں ان کے قریبی دوست بھی شامل ہیں، جن کے ساتھ وہ اسی علاقے میں پلے بڑھے ہیں۔ اپنے دوستوں کو اس طرح زخمی دیکھنا ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔

تحقیقاتی افسر ڈیٹیکٹو چیف انسپکٹر الزبتھ پیری نے عوام سے اپیل کی ہے کہ واقعے سے متعلق معمولی سے معمولی معلومات بھی پولیس کو فراہم کریں۔ پولیس موبائل فون، گاڑیوں کے ڈیش کیمروں اور گھروں میں نصب نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ بھی حاصل کر رہی ہے تاکہ حملے کے تمام پہلوؤں کا پتا لگایا جاسکے۔