برطانیہ میں مستقل رہائش کے قوانین سخت، بیشتر تارکینِ وطن کیلئے 10 سالہ شرط عائد

شبانہ محمود کا امیگریشن نظام میں بڑی اصلاحات کا اعلان، 5 سال بعد مستقل رہائش کی اجازت ہوگی

لندن (رائٹرز، برطانوی وزارتِ داخلہ) برطانوی حکومت نے امیگریشن قوانین میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے بیشتر تارکینِ وطن کیلئے مستقل رہائش حاصل کرنے کی مدت 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کر دی ہے۔ وزیر داخلہ شبانہ محمود نے پارلیمنٹ میں نئی پالیسی کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب برطانیہ میں مستقل قیام کا حق محض وقت گزارنے سے نہیں بلکہ معاشی اور سماجی خدمات میں کردار ادا کرنے سے حاصل ہوگا۔

حکومت کے مطابق یہ اصلاحات یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے بعد ملک میں آنے والے تارکینِ وطن کی بڑی تعداد اور آئندہ برسوں میں مستقل رہائش کے اہل ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے کے تناظر میں متعارف کرائی گئی ہیں۔ اندازہ ہے کہ تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار کم ہنر مند کارکن اور ان کے زیر کفالت افراد مستقل رہائش کے اہل ہونے کے مرحلے تک پہنچ سکتے ہیں۔

شبانہ محمود نے نئی پالیسی کو حاصل کردہ مستقل رہائش کا نظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں مستقل آباد ہونے کے خواہش مند افراد کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا اور ملکی معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے والوں کا انگریزی زبان پر عبور، مجرمانہ ریکارڈ، قومی بیمہ میں شراکت اور حکومت کے ذمے واجبات کی ادائیگی سمیت مختلف شرائط پر جائزہ لیا جائے گا۔

“نگہداشت کارکنوں کیلئے5 سالہ رعایت”
حکومت نے سیاسی اور سماجی حلقوں کی مخالفت کے بعد بعض غیر ملکی نگہداشت کارکنوں کے لیے خصوصی رعایت کا فیصلہ کیا ہے۔ مئی 2025ء سے پہلے برطانیہ آنے والے اہل کارکن 5 سال مکمل ہونے پر مستقل رہائش کی درخواست دے سکیں گے، بشرطیکہ وہ سالانہ کم از کم 25 ہزار پاؤنڈ آمدنی اور دیگر مقررہ شرائط پوری کرتے ہوں۔

یہ رعایت تمام نگہداشت کارکنوں کے لیے نہیں ہوگی بلکہ اس کا اطلاق مخصوص شرائط پر پورا اترنے والے افراد پر ہوگا۔ جو کارکن مطلوبہ شرائط پوری نہیں کر سکیں گے، انہیں مزید 5 سالہ ویزا حاصل کرنے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔

“زیادہ آمدنی والوں کیلئے3 سالہ راستہ”
نئی پالیسی میں زیادہ آمدنی والے افراد اور مخصوص ہنر مند کارکنوں کے لیے بھی رعایت رکھی گئی ہے۔ سالانہ ایک لاکھ 25 ہزار 141 پاؤنڈ سے زیادہ آمدنی رکھنے والے اہل افراد 3 سال میں مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکیں گے، جبکہ بعض خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کے لیے بھی یہی سہولت برقرار رہے گی۔

ڈاکٹروں، نرسوں، اساتذہ اور دیگر مخصوص خدمات انجام دینے والے کارکنوں کیلئے5 سالہ راستہ برقرار رکھا گیا ہے۔

“غیر قانونی طریقے سے آنے والوں کیلئے سخت شرائط”
حکومت نے غیر قانونی راستوں سے برطانیہ پہنچنے والے افراد کے لیے مستقل رہائش کی مدت مزید طویل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے انگلش چینل عبور کرکے آنے والے بعض افراد کو مستقل رہائش کے لیے 30 سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ بعض دیگر زمروں میں یہ مدت 20 سال تک ہو سکتی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ نئی اصلاحات کا مقصد امیگریشن نظام کو زیادہ منظم بنانا، سرکاری وسائل پر دباؤ کم کرنا اور ان افراد کو ترجیح دینا ہے جو برطانوی معیشت اور معاشرے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔برطانوی حکومت نے ان اصلاحات کے نفاذ کیلئے امیگریشن قواعد میں ضروری تبدیلیوں کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔