لاہور (نمائندہ خصوصی) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو پنجاب میں کرپشن سے متعلق بیان پر قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان لفظی تنازع شدت اختیار کرگیا۔
مریم نواز نے اس سے قبل اٹک میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ چوہدری سالک حسین کو ہرجانے کا نوٹس بھجوایا جائیگاا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر ہونے کے ناتے انہیں الزامات لگانے کے بجائے ثبوت پیش کرنے چاہئیں۔ اگر وہ اپنے الزامات کے ثبوت فراہم نہیں کرینگےتو انہیں عدالت لے جایا جائیگا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا تھا کہ جو شخص سفارش پر آتا ہے وہ ملک اور عوام کا بیڑا غرق کرتا ہے۔ میں ماضی کی باتیں نہیں کرنا چاہتی بلکہ خرابیوں کی نشاندہی کے بجائے مسائل کے حل کے لیے آئی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنا رپورٹ کارڈ لے کر عوام کے پاس آتی ہوں، اسے دیکھیں اور خود فیصلہ کریں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے وزیراعلیٰ پنجاب کے ردعمل کے باوجود اپنے بیان پر قائم رہنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں کرپشن ہو رہی ہے اور میں نے سچائی کے ساتھ جواب دیا ہے۔
چوہدری سالک حسین نے وضاحت کی کہ ڈی سی تعینات کرانے کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی بلکہ متعلقہ ڈی سی پہلے ہی تعینات تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان کے پاس اختیار آتا ہے تو اسے عاجزی اختیار کرنی چاہیے، اللہ تعالیٰ غرور اور تکبر سے محفوظ رکھے۔

