یوکرین جنگ پر امریکی مذاکرات کے چند گھنٹے بعد ماسکو میں کار بم دھماکا:روسی جنرل ہلاک

ماسکو (اے ایف پی/رائٹرز)جنوبی ماسکو کے ایک رہائشی علاقے میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں روسی فوج کے سینئر افسر 56 سالہ لیفٹیننٹ جنرل فانیل سروروف ہلاک ہو گئے۔ سروروف روسی جنرل اسٹاف کے تربیتی شعبے کے سربراہ تھے۔ روسی حکام کے مطابق ان کی کھڑی ہوئی کار کے نیچے نصب بم دھماکے سے پھٹ گیا، جس سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب چند گھنٹے قبل ہی امریکا میں یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات ہوئے تھے۔ اے ایف پی کے مطابق دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے سے کھڑکیاں لرز اٹھیں اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

روس کی تفتیشی کمیٹی نے کہا ہے کہ قتل کے تمام پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے، جن میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ حملے کا تعلق یوکرینی خصوصی سروسز سے ہے۔ کیف کی جانب سے واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

سرکاری سوانح عمری کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل فانیل سروروف نے شمالی قفقاز اور چیچنیا میں فوجی مہمات میں حصہ لیا اور 16-2015 کے دوران شام میں روسی افواج کی قیادت بھی کی۔ کریملن نے تصدیق کی ہے کہ صدر ولادیمیر پوٹن کو واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ فروری 2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد روسی جنرلز اور کریملن کے حامی افراد کو نشانہ بنانے کے متعدد حملے ہو چکے ہیں، جن میں کار بم دھماکے اور دیگر ٹارگٹ حملے شامل ہیں۔