تہران (ایجنسیاں)ایران کی پاسدارانِ انقلاب بحریہ نے 3 بحری جہازوں کو وارننگ دے کر آبنائے ہرمز سے واپس بھیج دیا اور اعلان کیا ہے کہ یہ اہم بحری گزرگاہ دشمن کی بندرگاہوں سے آنے جانے والوں کیلئےبند کر دی گئی ہے۔پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے تمام بحری سرگرمیوں کو روک دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، جبکہ کھاد کی بڑی مقدار بھی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اس کی بندش کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف 24 میل چوڑی اس گزرگاہ میں جہازوں کے لیے مخصوص تنگ راستے موجود ہیں، جس کے باعث متبادل راستہ اختیار کرنا ممکن نہیں ہوتا۔مزید برآں ماہرین کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 1000 میل طویل ساحلی پٹی ہے، جہاں سے اینٹی شپ میزائلوں کے ذریعے دور سے حملے کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اس سے قبل بھی متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنا چکا ہے جبکہ خلیج میں ہزاروں جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث عالمی شپنگ کمپنیاں اس راستے کے استعمال سے گریز کر رہی ہیں۔

