تہران( ایرانی میڈیا، تسنیم نیوز، رائٹرز)ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اس وقت ایران کی بنیادی توجہ جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے اور ملک اپنے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی مذاکرات نہیں کر رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور جہاز رانی کے طریقۂ کار سے متعلق فیصلے ایران اور عمان کریں گے۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق مختلف قیاس آرائیوں کے باوجود اس اہم آبی گزرگاہ کے بارے میں فیصلہ سازی کا اختیار ساحلی ممالک ایران اور عمان کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک محفوظ بحری آمدورفت کے لیے باہمی مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی ضمانتوں اور وعدوں کو ناقابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے لیے صرف عملی اقدامات ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مخالف فریق کی جانب سے عملی پیش رفت سے پہلے ایران کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات میں اپنے مؤقف اور زمینی حقائق سے آگاہ کرتا ہے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کی کسی بھی پیش رفت کا انحصار مخالف فریق کے عملی رویّے پر ہوگا۔

