سنگاپور( رائٹرز، اے ایف پی، الجزیرہ، بلومبرگ)قطر نے آبنائے ہُرمُز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے عارضی ٹول ٹیکس وصولی کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مخصوص حالات میں اس معاملے پر غور کیا جا سکتا ہے، تاہم مستقل بنیادوں پر اس ٹیکس کی مخالفت کی جائے گی۔
سنگاپور میں شنگریلا سیکیورٹی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمان الثانی نے کہا کہ مستقل ٹول ٹیکس کا بوجھ بالآخر عالمی صارفین پر پڑے گا، جو قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران بارودی سرنگوں کی صفائی یا آبی گذرگاہ کی حفاظت جیسے ضروری اقدامات کے اخراجات پورے کرنے کے لیے محدود مدت کے لیے ٹول ٹیکس وصول کرنا چاہے تو اس بارے میں بات چیت کی جا سکتی ہے۔
قطری نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبنائے ہُرمُز بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گذرگاہ ہے، اس لیے اس کی آزادانہ اور محفوظ نقل و حرکت برقرار رہنی چاہیے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکا بندی ختم کرنے اور آبنائے ہُرمُز کھولنے کے اعلان کے بعد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 24 بحری جہاز آبنائے سے گزر چکے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ان جہازوں میں تیل بردار ٹینکرز اور کنٹینر بردار بحری جہاز شامل تھے، جنہوں نے ایرانی بحریہ کے تعاون سے آبنائے ہُرمُز عبور کی۔

